زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 263
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 263 جلد چهارم اپنے لڑکوں کو یہیں تعلیم کے لئے بھجوائیں گے۔لیکن اگر تم اس سکول کو بھول جاؤ اور تمہاری زبان پر بھی نہ آئے کہ ہم اس سکول میں پڑھتے رہے ہیں اور اسلام کی تعلیم ہم نے وہیں سے سیکھی ہے تو کسی کو پتہ بھی نہیں لگے گا کہ اس سکول کی کیا عظمت ہے۔پس جب تم یہاں سے جاؤ تو اس امر کو یا د رکھو کہ جب بھی کوئی موقع نکلے تو اس سکول کی عظمت کا ذکر کرو اور بتاؤ کہ وہاں کس طرح دینی تعلیم دی جاتی ہے اور کس محنت اور توجہ کے ساتھ اخلاق سکھائے جاتے ہیں۔پھر جب خدا تعالیٰ تمہیں کام کرنے کا موقع دے تو تم اپنے اموال سے بھی اس سکول کی مدد کرو۔اگر ایک لڑکا چار چار پانچ پانچ روپے بھی بھجوائے تو دس پندرہ ہزار روپیہ سالانہ چندہ آجاتا ہے۔اس طرح دو چار سال میں ہی سکول کی بلڈنگ مکمل ہوسکتی ہے۔اس کے بعد میں دعا کر دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ امتحان دینے والوں کو اچھے نمبروں پر کامیاب کرے اور جس غرض کے لئے انہوں نے تعلیم حاصل کی ہے اس میں وہ پورے اتریں اور اللہ تعالیٰ انہیں کامیاب زندگی عطا کرے اور انہیں ہمیشہ صحیح رستہ پر چلنے کی توفیق عطا ( الفضل 29 نومبر 1955ء) فرمائے۔“