زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 262
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 262 جلد چهارم غرض تمہارے لئے اللہ تعالیٰ نے جو سامان پیدا کئے ہیں تمہیں ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اپنے سکول کی اچھی روایات کو قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مجھے افسوس ہے کہ طلباء جب سکول کی تعلیم سے فارغ ہو جاتے ہیں تو پھر وہ اپنے اس سکول سے تعلق قائم نہیں رکھتے۔حالانکہ دوسروں میں یہ بات پائی جاتی ہے۔علی گڑھ کو دیکھ لو۔وہاں جن لوگوں نے تعلیم پائی ہے وہ اب تک اپنے کالج کے نام کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔پاکستان میں آ کر بھی ان کی یہ کوششیں جاری ہیں کہ یہاں ایک نیا علی گڑھ بنا دیا جائے۔تم کو بھی چاہئے کہ تم اس سکول سے اپنے تعلق کو قائم رکھو۔ماں کے پیٹ سے جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو کیا بڑے ہو کر وہ اس تعلق کو بھلا دیتا ہے جو اس کا اپنی ماں کے ساتھ تھا ؟ اگر وہ اپنی ماں کو بھلا سکتا ہے تو تم بھی کہہ سکتے ہو کہ ہم اپنے سکول کے پرانے تعلق کو کیوں یاد رکھیں۔لیکن اگر وہ نہیں بھلا سکتا اور اگر بھلاتا ہے تو لوگ اسے ملامت کرتے ہیں تو تمہیں بھی اس تعلق کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔جوں جوں تم دنیوی کاموں میں شمولیت اختیار کرو اور تمہاری سمجھ زیادہ ہوتی چلی جائے تمہیں وہ سکول بھی یادرکھنا چاہئے جس نے بچپن میں علم کی بنیاد تمہارے دماغوں میں قائم کی تھی۔اور اپنے ان اساتذہ کو بھی یاد رکھنا چاہئے جنہوں نے تمہیں علم سے آراستہ و پیراستہ کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس وقت سکول کے ہزاروں طالب علم مختلف مقامات پر کام کر رہے ہوں گے اگر ہر ایک کو اپنے سکول کا احساس ہوتا تو سکول کی عمارتوں کے وہ حصے جو ابھی خالی پڑے ہیں خالی نظر نہ آتے۔علیگڑھ کالج کے طلباء ہر سال چھٹیوں پر جاتے ہیں اور ہزاروں روپیہ کالج کے لئے چندہ کر کے لے آتے ہیں۔اگر اس سکول کے طلباء بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور سکول کی ترقی کے لئے چندے بھجوائیں اور اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو بھی تحریک کریں کہ وہ نئے لڑکے یہاں تعلیم کے لئے بھجوائیں تو اس سکول کا معیار لازماً بڑھتا چلا جائے گا اور اس کی شہرت میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔اور جب کوئی کہے گا کہ میں ربوہ کے تعلیم الاسلام ہائی سکول کا طالب علم ہوں تو سب لوگ کہیں گے کہ یہاں کے لڑکے بڑے ہوشیار ہوتے ہیں ہم بھی