زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 256

زریں ہدایات (برائے طلباء) 256 جلد چهارم چیز ایجاد ہوئی ہے۔لیکن جہاں ان اشیاء کی باریکیاں ختم ہونے میں نہیں آتیں اور ان کے نئے سے نئے خواص نکلتے چلے آ رہے ہیں وہاں جب تک سائنس کی تحقیق نہیں ہوئی تھی تب بھی لوگ دریاؤں سے ویسا ہی مزہ اٹھاتے تھے جیسے آج اٹھا رہے ہیں۔بے شک انہوں نے سائنس نہیں پڑھی تھی لیکن کیا وہ پہاڑوں کو دیکھ کر لطف نہیں اٹھاتے تھے؟ کیا وہ دریاؤں کو دیکھ کر لطف نہیں اٹھاتے تھے ؟ کیا وہ صحراؤں کو دیکھ کر لطف نہیں اٹھاتے تھے؟ خدا نے دنیا کو بنا یا ہی ایسا ہے کہ ہر علم اور ہر ملک کا انسان اس سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔مثلاً زمین پر گھانس پھونس ہے، درخت ہیں، پہاڑ ہیں ، دریا ہیں اور اسی طرح اور ہزاروں ہزار چیزیں ہیں۔اب بغیر اس کے کہ ایک شخص جانتا ہو کہ بارشیں کیوں ہوتی ہیں، بیجوں کے اندر کیا کیا قابلیتیں ہوتی ہیں، زمین کے اندر کیا کیا خاصیتیں ہیں، پہاڑوں کے کیا کام ہیں، دریاؤں کے کیا فوائد ہیں ایک جاہل سے جاہل انسان بھی ان کو دیکھتا ہے تو لطف حاصل کرتا ہے۔ایک گونگا اور بہرہ انسان بھی دیکھتا ہے تو ہی ہی ہاہا کرنے لگ جاتا ہے۔غرض کم سے کم علم والا بھی اس سے مزہ حاصل کرتا ہے اور بڑے سے بڑے علم والا بھی اس سے مزہ حاصل کرتا ہے۔یہی حال قرآن کریم کا ہے اس میں جو باریکیاں مخفی ہیں ان کو تو جاننے والے جانتے ہی ہیں لیکن کم سے کم علم والا بھی قرآن کریم سے اُسی طرح لطف حاصل کر سکتا ہے جس طرح ایک کم سے کم علم والا۔جو سائنس کا ایک حرف بھی نہیں جانتا قدرت کے مناظر کو دیکھ کر لطف حاصل کر لیتا ہے۔پس اگر تم معمولی توجہ سے بھی قرآن کریم پڑھو اور اس پر غور کرو تو جتنی عقل تمہارے اندر پائی جاتی ہے اس کے مطابق تمہیں اس کے اندر ایسی خوبیاں نظر آ جائیں گی کہ تم اس کے بار یک حسن کو جانے بغیر ہی اس سے لذت آشنا ہو جاؤ گے۔قصہ مشہور ہے کہ دو فلاسفر تھے جن کی آپس میں بحث شروع ہو گئی۔ایک دلائل دیتا کہ خدا ہے اور دوسرا کہتا کہ خدا نہیں۔آخر یہ بحث لمبی ہو گئی۔جو فلاسفر یہ کہتا تھا کہ خدا نہیں وہ کہتا کہ خدا کا عقیدہ تم نے خود ایجاد کیا ہے اور آہستہ آہستہ اسے لوگوں پر ٹھونس دیا