زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 255
زریں ہدایات (برائے طلباء) 255 جلد چهارم لڑکوں کو خاص مشق کرائی جاتی ہے اور یا پھر ان میں عربی کے متعلق جو احساس کمتری پایا جاتا ہے وہ انہیں زیادہ احتیاط کی طرف مائل کر دیتا ہے۔بہر حال یہ امر ہمیشہ ہی میرے لئے خوشی کا موجب رہا ہے سوائے پہلے ایک دو سالوں کے کہ جن میں طلباء کچھ غلطیاں کر جاتے تھے اس کے بعد میں مسلسل ان کی تلاوت کو غور سے سنتا رہا ہوں۔سوائے معمولی غلطیوں کے عموماً تلاوت صحیح کی جاتی ہے۔اس دفعہ بھی جس لڑکے نے تلاوت کی ہے صحیح کی ہے اور جس لڑکے نے نظم پڑھی ہے اس کا طریق بھی ایسا تھا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ مطلب سمجھ کر نظم پڑھ رہا ہے۔لیکن اس کا سینہ ایسا کھلا نہیں تھا کہ وہ اس بوجھ کو زیادہ دیر تک برداشت کر سکتا۔آجکل چونکہ یہ بھی ایک فن بنا ہوا ہے اس لئے اساتذہ کو چاہئے کہ وہ طلباء کو اس کی مشق کرا دیا کریں۔اونچی آواز ہمیشہ سینہ میں سانس کو روک رکھنے سے پیدا ہوتی ہے۔جب ہم لمبا سانس کھینچ کر بولیں تو ہماری آواز بلند ہو جاتی ہے۔پس طلباء کو ایسی مشق کرانی چاہئے کہ وہ سانس کھینچ کر زیادہ دیر تک روک سکیں۔اگر یہ مشق نہ ہو تو آواز نیچی رہ جاتی اور کمزور پڑ جاتی ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے میری طبیعت اچھی نہیں اس لئے میں اس وقت صرف چند الفاظ ہی کہنا چاہتا ہوں۔ہمارا یہ سکول اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعہ سے طلباء کو دین کی تعلیم دی جائے۔اس سکول کا نام ہی تعلیم الاسلام ہے اور اسی غرض کے ماتحت طلباء کو یہاں تعلیم دی جاتی ہے۔پس مقدم چیز یہی ہے کہ جولڑ کے باہر سے یہاں آتے ہیں وہ قرآن کریم کا ترجمہ سیکھیں ، پھر اس کے مطالب کو سمجھیں اور اسلام کی زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں تا کہ جب وہ تعلیم سے فارغ ہو کر باہر جائیں تو لوگ محسوس کریں کہ انہوں نے دین کو اچھی طرح سمجھا ہے اور اس کو سیکھنے کی کوشش کی ہے۔یوں اگر دین کی وسعت کو دیکھا جائے تو اس کی کوئی حد نہیں۔بلکہ دنیا کی کسی چیز کو لے لو، دنیا کی مٹی کو لے لو، پانی کو لے لو۔آج تک مٹی اور پانی کے نئے نئے خواص نکلتے چلے آ رہے ہیں۔ہائیڈ روجن بم انہی میٹیوں اور پانیوں سے نکالا گیا ہے اور دنیا حیران ہے کہ کیسی خطر ناک