زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 254
زریں ہدایات (برائے طلباء) 254 جلد چهارم دین کو سمجھو اور دین پر عمل کرنا اپنا شعار بناؤ یکم مارچ 1954 ء کو بعد نماز عصر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کی جماعت نہم کے طلباء نے میٹرک کے امتحان میں شمولیت اختیار کرنے والے طلباء کے اعزاز میں ایک دعوت چائے دی۔جس میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بھی از راہ شفقت شمولیت فرمائی۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل خطاب فرمایا:۔میں نے آج یہاں آنا تو قبول کر لیا تھا لیکن عصر کے قریب سے مجھے شدید سر درد کا دوره شروع ہے۔جو بائیں طرف سر کے نصف حصہ میں ہے اور یہ ملیریا کی علامت ہوتی ہے جس کی وجہ سے میرے لئے یہاں آنا مشکل تھا۔خصوصاً اس وجہ سے کہ ہوا لگ کر طبیعت زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔مگر چونکہ یہ دوسرا موقع تھا وعدے کا۔ایک دفعہ وعدہ کر کے میں لاہور چلا گیا تھا اس لئے میں نے مناسب سمجھا کہ میں آ جاؤں خواہ اس موقع پر میں چند الفاظ ہی کہوں۔اس وقت جو قرآن کریم کی تلاوت کی گئی ہے اور اسی طرح جو نظم پڑھی گئی ہے اس کے متعلق یہ بات مجھے ہمیشہ ہی خوش کرتی ہے کہ ہمارے ہائی سکول میں اس بات کی پوری احتیاط کی جاتی ہے یا بہت حد تک احتیاط کی جاتی ہے کہ تلاوت صحیح طور پر کی جائے اور اسی طرح نظم بھی صحیح طور پر پڑھی جائے۔بلکہ میں کہہ سکتا ہوں تلاوت کے معاملہ میں مدرسہ احمدیہ کے طلباء جن کی پڑھائی خالص عربی ہے ان پر بھی تعلیم الاسلام ہائی سکول کے طلباء اس لحاظ سے فوقیت رکھتے ہیں۔مدرسہ احمدیہ کے طلباء کی تلاوت بہت سی غلطیوں سے پُر ہوتی ہے مگر ہائی سکول کے طلباء بہت صحیح تلاوت کرتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو