زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 250
زریں ہدایات (برائے طلباء) 250 جلد چهارم پڑتی ہے۔بہر حال بغیر اس کے کہ روٹی کا سوال حل ہو ہماری عورتیں فارغ نہیں ہوسکتیں اور بغیر اس کے کہ بچہ پالنے کے طریق میں تبدیلی ہو ہماری عورتیں فارغ نہیں ہو سکتیں۔جب تک بچہ گود میں رہے گا یا ماں بے کا ر رہنے پر مجبور ہوگی یا بیٹی مجبور رہے گی۔کام کے لئے فراغت اسے اُسی وقت ہوسکتی ہے جب بچہ کو پیدا ہوتے ہی پنگھوڑے میں ڈال دیا جائے اور پھر وقت پر اسے دودھ پلا دیا جائے۔گود میں اسے نہ اٹھایا جائے۔غرض جب تک یہ سوال حل نہیں ہوتا ماں کی زندگی بیکار رہے گی۔اور جب تک کھانے کا سوال حل نہیں ہوتا عورت کی زندگی بیکار رہے گی۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روزانہ چار وقت کے کھانے کی بجائے صرف دو وقت کا کھانا رکھ لیا جائے اور ناشتہ کا کوئی سادہ دستور نکالا جائے اور کھانے ایسے تیار کئے جائیں جو کئی کئی وقت کام آسکیں اور روٹی بازار سے منگوالی جائے۔لیکن اگر صبح شام کھانا پکانے ، برتن مانجنے کا کام عورت کے ہی سپر در ہے گا تو وہ بالکل بے کار ہو کر رہ جائے گی اور کسی کام کے لئے وقت صرف نہیں کرے گی۔پس جہاں دینی مسائل کو مدنظر رکھنا تمہارے لئے ضروری ہے وہاں ان عائلی مشکلات کو حل کرنا بھی تمہارے لئے ضروری ہے۔ہندوستان میں مسلمانوں کے تنزل اور ان کے انحطاط کی بڑی وجہ یہی ہوئی کہ جب ان کے پاس دولت آگئی تو انہوں نے اس قسم کے مشاغل بے کاری کو اختیار کر لیا۔گھروں میں مرد بیٹھے چھالیہ کاٹ رہے ہیں ، گلوریاں بنا رہے ہیں اور عورت بھی کھانے پکانے میں مصروف ہے۔کبھی یہ چیز تلی جا رہی ہے، کبھی وہ چیز لی جارہی ہے، کبھی کہتی ہے اب میں چٹنی بنالوں، کبھی کہتی ہے اب میں میٹھا بنا رہی ہوں۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تو کھانے تیار کرنے میں مشغول ہو گئے اور حکومت انگریزوں نے سنبھال لی۔یہ مصیبت جتنی ہندوستان میں ہے باہر نہیں۔عرب میں جا کر دیکھ لو سارا عرب بازار سے روٹی منگواتا ہے۔مصر میں جا کر دیکھ لو سارا مصر بازار سے روٹی منگواتا ہے۔اور سالن بھی وہ گھر تیار نہیں کرتے بازار سے ہی منگوا لیتے ہیں۔وہاں لوبیا کی پھلیاں بڑی کثرت سے ہوتی۔