زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 247

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 247 جلد چهارم کرتی تھی کہ ہفتہ میں ایک دن کی پوری اور ایک دن کی آدھی چھٹی ہو گی۔ڈیڑھ دن تو اس طرح نکل گیا جس میں گھر والوں کو خود کام کرنا پڑتا تھا۔آقا بہتیری شور مچاتی رہے کہ کام بہت ہے وہ کہے گی کہ میں نہیں آسکتی کیونکہ میری چھٹی کا دن ہے۔پھر جتنا وقت مقرر ہو اس سے زیادہ وہ کام نہیں کرے گی۔کتنا بھی کام پڑا ہو وہ فورا چھوڑ کر چلی جائے گی اور کہے گی کہ وقت ہو چکا ہے۔دراصل اس میں ان کا کوئی قصور نہیں بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ان کے اختیار میں ہی نہیں ہوتا کہ زیادہ کام کریں کیونکہ وہاں ہر طبقہ کے لوگوں کی الگ الگ انجمنیں بنی ہوئی ہیں۔کوئی گھر کے نوکروں کی انجمن ہے، کوئی قلیوں کی انجمن ہے، کوئی انجنوں میں کوئلہ ڈالنے والوں کی انجمن ہے، کوئی استادوں کی انجمن ہے۔ان انجمنوں کی سفارش کے بغیر کسی کو نوکری نہیں ملتی۔اگر وہ زائد کام کریں تو انجمن کی ممبری سے ان کا نام کٹ جاتا ہے اور پھر انہیں کہیں ملازمت نہیں ملتی۔ہمیں وہاں مضمون لکھنے کے لئے ایک ٹائپسٹ کی ضرورت تھی۔دفتر نے ایک عورت اس غرض کے لئے رکھی جو زیکو سلواکیہ کی رہنے والی تھی۔اُسے ہمارے مضامین پڑھنے کے بعد سلسلہ سے دلچسپی ہوگئی مگر مشکل یہ تھی کہ اُس کا وقت ختم ہو جاتا اور ہمارا کام ابھی پڑا ہوا ہوتا۔بعض دفعہ ہمیں دوسرے ہی دن مضمون کی ضرورت ہوتی اور وہ کہتی کہ میں اب جارہی ہوں کیونکہ وقت ہو گیا ہے۔مگر چونکہ اسے ہمارے سلسلہ سے دلچسپی ہو گئی تھی اس لئے وہ کہتی کہ میں زائد وقت کی ملازمت تو نہیں کر سکتی لیکن میں یہ کر سکتی ہوں کہ مضمون ساتھ لے جاؤں اور گھر پر اسے ٹائپ کروں۔انجمن والے مجھے گھر کے کام سے نہیں روک سکتے۔اُس وقت میرا اختیار ہے کہ میں جو چاہوں کروں۔آپ مجھے اُس وقت کی تنخواہ نہ دیں میں آپ کا کام مفت کر دوں گی۔اگر آپ مجھے کچھ دینا چاہیں تو بعد میں انعام کے طور پر دے دیں۔اس طرح وہ مشن کا کام کیا کرتی تھی۔کیونکہ ڈرتی تھی کہ اگر انہیں پتہ لگا کہ میں چھ گھنٹہ سے زیادہ کہیں کام کرتی ہوں تو وہ مجھے نکال دیں گے اور پھر مجھے کہیں بھی نوکری نہیں ملے گی۔یہ چیزیں ابھی ہمارے ملک میں نہیں آئیں لیکن جب آئیں تو پھر لوگوں کے لئے بہت کچھ مشکلات پیدا