زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 246
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 246 جلد چهارم ہیں جن سے بہت کم وقت میں سبزی اور گوشت وغیرہ تیار ہو جاتا ہے۔پھر انہوں نے اپنی زندگیاں اس طرح ڈھال لی ہیں کہ عام طور پر وہ ہوٹلوں میں کھانا کھاتے ہیں۔یورپ میں بالعموم چار کھانے ہوتے ہیں۔صبح کا ناشتہ، دو پہر کا کھانا، شام کا ناشتہ اور رات کا کھانا۔عام طور پر درمیانے طبقہ کے لوگ صبح کی چائے گھر پر تیار کر لیتے ہیں۔باقی دو پہر کے کھانے اور شام کی چائے وہ ہوٹل میں کھا لیتے ہیں اور شام کا کھانا گھر پر کھاتے ہیں۔پھر سرد ملک ہونے کی وجہ سے ایک وقت کا کھانا کئی کئی وقت چلا جاتا ہے۔اور پھر کھانے انہوں نے اس قسم کے ایجاد کر لئے ہیں جن کا ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔مثلاً کولڈ میٹ ( Cold meat) ہے۔روٹی بازار سے منگوالی اور کولڈ میٹ کے ٹکڑے کاٹ کر اس سے روٹی کھا لی۔لیکن ہمارے ہاں ہر وقت چولہا جلتا رہتا ہے۔جب تم کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتی ہو تو تمہیں یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ تم اپنی زندگی کس طرح گزارو گی۔اگر چولہے کا کام تمہارے ساتھ رہا تو پھر پڑھائی بالکل بے کار چلی جائے گی۔تمہیں غور کر کے اپنے ملک میں ایسے تغیرات پیدا کرنے پڑیں گے کہ چولہے پھونکنے کا شغل بہت کم ہو جائے۔اگر یہ شغل جاری رہا تو پڑھائی سب خواب و خیال ہو کر رہ جائے گی۔یہی چولہا پھونکنے کا شغل اگر کم سے کم وقت میں محدود کر دیا جائے مثلاً اس کے لئے ایک گھنٹہ صبح اور ایک گھنٹہ شام رکھ لیا جائے تب بھی اور کاموں کے لئے تمہارے پاس بہت سا وقت بچ سکتا ہے۔یہ مت خیال کرو کہ تم نوکر رکھ لو گی۔نوکر رکھنے کا زمانہ اب جا رہا ہے۔اب ہر شخص نو کر نہیں رکھ سکے گا بلکہ بہت بڑے بڑے لوگ ہی نوکر رکھ سکیں گے۔کیونکہ نوکروں کی تنخواہیں بڑھ رہی ہیں اور ان تنخواہوں کے ادا کرنے کی متوسط طبقہ کے لوگوں میں بھی استطاعت نہیں ہوسکتی۔جب میں یورپ میں گیا ہوں تو اُس وقت تک ابھی نوکروں کی تنخواہیں اتنی زیادہ نہیں ہوتی تھیں تب بھی ہم نے جو عورت رکھی ہوئی تھی اُسے ہم 21 شلنگ ہفتہ واریا ساٹھ روپے ماہوار دیا کرتے تھے اور ساتھ ہی کھانا بھی دیتے تھے۔پھر ان کی یہ شرط ہوا ا