زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 243
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 243 جلد چهارم غرض یہ کالج میں نے اس لئے کھولا ہے کہ اب دین اور دنیا کی تعلیم چونکہ مشترک ہو سکتی ہے اس لئے اسے مشترک کر دیا جائے۔اس کالج میں پڑھنے والی دو قسم کی لڑکیاں ہوسکتی ہیں۔کچھ تو وہ ہوں گی جن کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دنیوی کام کریں اور کچھ وہ ہوں گی جن کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کی خدمت کریں۔میں دونوں سے کہتا ہوں کہ دینی خدمت بھی دنیا سے الگ نہیں ہو سکتی اور دنیا کے کام بھی دین سے الگ نہیں ہو سکتے۔اسلام نام ہے خدا تعالیٰ کی محبت اور بنی نوع انسان کی خدمت کا۔اور بنی نوع انسان کی خدمت ایک دنیوی چیز ہے جس طرح خدا تعالیٰ کی محبت ایک دینی چیز ہے۔پس جب اسلام دونوں چیزوں کا نام ہے اور جب وہ لڑکی جو اس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دنیا کا کام کرے اور وہ لڑکی جو اس لئے پڑھتی ہے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دین کا کام کرے اور دونوں اپنے آپ کو مسلمان کہتی ہیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جو لڑ کی اس لئے پڑھتی ہے کہ وہ دنیا کا کام کرے اسے معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنا بھی دین کا حصہ ہے۔اور جولڑ کی اس لئے پڑھتی ہے کہ وہ دین کا کام کرے اُسے معلوم ہے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنا بھی دین کا حصہ ہے۔پس دونوں کا مقصد مشترک ہو گیا۔جو دینی خدمت کی طرف جانے والی ہیں انہیں یا درکھنا چاہئے کہ بنی نوع انسان کی خدمت کرنا بھی دین کا حصہ ہے۔دین کے معنی صرف سُبْحَانَ اللهِ ، سُبحَانَ اللہ کرنے کے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی مخلوق کی خدمت کرنے اور ان کے دکھ درد کو دور کرنے میں حصہ لینے کے بھی ہیں۔اور جولڑ کیاں دنیا کا کام کرنا چاہتی ہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام نے خدا تعالیٰ کی محبت پر بھی زور دیا ہے۔پس اُنہیں دنیوی کاموں کے ساتھ خدا تعالیٰ کی محبت کو کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہمیشہ اس کی محبت اپنے دلوں میں زیادہ سے زیادہ پیدا کرتے چلے جانا چاہئے۔اور چونکہ دونوں قسم کی لڑکیاں در حقیقت ایک ہی مقصد اپنے سامنے رکھتی ہیں اس لئے وہ جو اختلاف تمہیں اپنے اندر نظر آسکتا تھا وہ نہ رہا اور تم سب کا ایک ہی مقصد اور ایک ہی مدعا ہو گیا۔پس یہ مقصد