زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 242
زریں ہدایات (برائے طلباء ) تلاش کرو گی تو وہ تمہیں مل جائے گا۔242 جلد چهارم قرآن کریم خود بتاتا ہے کہ وہ ایک بند خزانہ ہے۔اس کے الفاظ ہر ایک کے لئے کھلے ہیں۔اس کی سورتیں ہر ایک کے لئے کھلی ہیں مگر اُس کے لئے کھلی ہیں جو پہلے ایمان لاتا ہے۔وہ فرماتا ہے لا يَمَسُّة إلا المطهرون 7 وہ لوگ جو ہماری برکت اور رحمت سے ممسوح کئے جاتے ہیں وہی سمجھ سکتے ہیں کہ قرآن کریم میں کیا کچھ بیان ہوا ہے۔باقی عربی کتا بیں عربی جاننے سے سمجھی جاسکتی ہیں لیکن قرآن ایمان سے سمجھا جا سکتا ہے۔اگر تمہیں کامل ایمان حاصل ہو اور پھر تم اس کو دیکھو تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دنیا کی کسی مجلس میں، دنیا کی کسی یونیورسٹی کی ڈگری یافتہ عورت سے تم نیچی نہیں ہو سکتیں۔وہ تمہیں اس طرح دیکھیں گی جس طرح شاگرد اپنے اساتذہ اور معلمین کو دیکھتے ہیں کیونکہ تمہارے پاس وہ چیز ہو گی جو اُن کے پاس نہیں ہوگی۔مگر مصیبت یہ ہے کہ احمدی نوجوان بھی ابھی اس بات پر تو ایمان لے آیا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنا ماً مور بھیجا، وہ اس بات پر بھی ایمان لے آیا ہے کہ احمدیت کچی ہے مگر ابھی اس بات پر اُسے پختہ ایمان حاصل نہیں ہوا کہ قرآن کریم میں ہر چیز موجود ہے۔اگر یہ بات حاصل ہو جاتی تو آج ہماری جماعت کہیں سے کہیں پہنچ جاتی۔اگر تمہاری جیب میں روپیہ موجود ہو تو کیا ضرورت ہے تم صندوق کھولنے جاتی ہو یا اپنی جیب میں ہاتھ ڈالتی ہو اور روپیہ نکال لیتی ہو۔اگر واقع میں ایک احمدی مرد اور عورت کے دل میں یہ ایمان ہو کہ قرآن کریم میں ہر چیز موجود ہے تو وہ کسی اور طرف جائے گا کیوں ؟ وہ قرآن پر غور کرے گا اور وہ کچھ ملے گا جو اُسے دوسری کتابوں میں مل سکتا ہی نہیں۔تب اُس کی زندگی دوسروں سے زیادہ اعلیٰ ہوگی اور وہ ان میں ایک ممتاز حیثیت کا حامل ہوگا۔بے شک بعض مجبوریوں کی وجہ سے اسے بھی یونیورسٹیوں میں پڑھنا پڑے گا مگر اس کو آخری ڈگری دینے والا کوئی چانسلر نہیں ہوگا، کوئی گورنر نہیں ہوگا، کوئی وزیر نہیں ہوگا بلکہ اسے آخری ڈگری دینے والا خدا ہوگا۔اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی ڈگری کے مقابلہ میں انسانوں کی ڈگری کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔