زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 241
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 241 جلد چهارم کو سمو دیا ہے اور اسے کچھ ہمارے مطابق کر دیا ہے اور کچھ ابھی ہمارے مطابق نہیں۔پس ان بدلے ہوئے حالات کے مطابق جبکہ ہم سہولت کے ساتھ کالج میں بھی دینیات کی تعلیم دے سکتے ہیں میں نے فیصلہ کیا کہ دینیات کلاسز کو اڑا دیا جائے اور اسی کالج میں لڑکیوں کو زائد دینی تعلیم دی جائے تاکہ وہ کالج کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی لحاظ سے بھی اعلیٰ درجہ کی معلومات حاصل کر لیں اور اسلام پر ان کی نظر وسیع ہو جائے۔عیسائی حکومت جو تعلیم میں پہلے دخل دیا کرتی تھی وہ اب باقی نہیں رہی۔پس میں نے فیصلہ کیا کہ اب ہمیں کالج قائم کر دینا چاہئے تا کہ ہماری لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے پاکستان میں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ عورتیں ہیں اُن کی برابری کر سکیں اور ایک مقام پر ان کے ساتھ بیٹھ سکیں۔گو ہونا تو یہ چاہئے کہ اس تعلیم کو حاصل کرنے کے بعد تمہاری دماغی کیفیت اور تمہاری قلبی کیفیت اور تمہاری ذہانت دوسروں سے بہت بالا اور بلند ہو اور جب بھی تم اُن کے پاس بیٹھو وہ یہ محسوس کریں کہ تمہارا علم اور ہے اور ان کا علم اور۔تمہارا علم آسمانی ہے اور اُن کا زمینی۔اور اگر تم قرآن کریم کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اس پر غور کرنے کی عادت ڈالو تو یہ کوئی بڑی بات نہیں۔تم انٹرنس (Entrance) پاس ہو لیکن میں انٹرنس میں فیل ہو اتھا بلکہ واقعہ تو یہ ہے کہ میں مڈل پاس بھی نہیں کیونکہ میں مڈل میں بھی فیل ہو ا تھا۔در حقیقت قانون کے مطابق میری تعلیم پرائمری تک ختم ہو جانی چاہئے تھی کیونکہ جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے پرائمری کا امتحان بھی پاس نہ کیا تھا مگر چونکہ گھر کا سکول تھا اس لئے اساتذہ مجھے انگلی کلاسوں میں بٹھاتے چلے گئے۔پس میں پرائمری پاس بھی نہیں اور تم تو میٹرک کا امتحان پاس کر چکی ہو۔پھر ایف اے بندگی اس کے بعد بی اے بندگی اور پھر اِنشَاء الله ایم اے کی کلاسز بھل جائیں گی اور تم ایم اے ہو جاؤ گی۔اگر تم یہ سمجھو کہ قرآن کریم کے علوم کے مقابلہ میں دنیا کے علوم بالکل بیچ ہیں تو یقیناً تم تلاش کرو گی کہ قرآن کریم میں وہ علوم کیوں پائے جاتے ہیں۔پہلے ہمیشہ ایمان پیدا ہوتا ہے اور پھر عمل پیدا ہوتا ہے۔اگر تمہیں یقین ہو کہ قرآن کریم میں وہ علم بھرا ہوا ہے جو دنیا میں نہیں تو یقیناً تم تلاش کرو گی کہ وہ ہے کہاں۔اور جب تم