زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 230
زریں ہدایات (برائے طلباء) 230 جلد چهارم ہے۔تاریخ سے بھاگنے والا وہی بزدل ہوتا ہے جس میں یہ جرات نہیں ہوتی کہ وہ حقائق کے آئینہ میں اپنے باپ دادا کی شکل کے سامنے اپنی شکل رکھ سکے۔بہادر اور ہمت والا انسان خود جاتا ہے اور اس آئینہ کو اٹھاتا ہے۔وہ اس آئینہ میں اپنی شکل کو دیکھ کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے اور کہتا ہے ہاں میرے آباؤ اجداد اگر چٹان تھے تو میں بھی چٹان بن کر رہوں گا۔وہ اگر طوفان تھے تو میں ان سے بھی اونچا طوفان بنوں گا۔وہ اگر سمندر کی لہروں کی طرح اٹھتے تھے تو میں ان سے بھی اونچا اٹھوں گا۔تم جانتی ہو کہ وہ لڑکی جس کے ہے۔نمبر کلاس میں زیادہ ہوتے ہیں وہ اپنے نمبروں کو چھپاتی نہیں بلکہ ہر ایک کو بتاتی۔نمبروں کا بتانا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے انسان کا اپنا منہ دکھانا۔وہ اپنا اندرونہ دکھاتی ہے۔اور جس کے نمبر کم ہوتے ہیں وہ ان کو چھپایا کرتی ہے۔پس تاریخ کے پڑھنے سے گریز در حقیقت بزدلی کی علامت ہے۔در حقیقت یہ اس بات کی علامت ہے کہ اس شخص کو اپنے مکروہ چہرے کا پتہ ہے اور اس شخص کو اپنے آباؤ اجداد کے حسین چہرے کا بھی پتہ ہے مگر ان دونوں باتوں کے معلوم ہونے کے بعد وہ یہ جرات نہیں رکھتا کہ ایک آئینہ میں دونوں کی اکٹھی شکل دیکھ سکے۔یہاں تک تو میں نے صرف عام پیرا یہ میں اس مضمون کی اہمیت بیان کی ہے اگر مذہبی پہلو لے لو تو تاریخ ہی ایک مسلمان کو بتا سکتی ہے کہ کس طرح ایک ریگستان سے ایک انسان اٹھا اور اس نے اپنی مقناطیسی قوت سے اپنے اردگرد کے فولادی ذروں کو جمع کرنا شروع کیا۔پھر تھوڑے ہی عرصہ میں وہ ایک علاقہ میں پھیل گیا۔پھر ملک میں پھیل گیا۔پھر زمین کے تمام گوشوں میں چپے چپے پر اُس کی جماعت پھیل گئی۔قرآن کریم میں مسلمانوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ ان کا نام بَرَرَةٍ 1 اور سَفَرَةٍ 2 رکھا ہے۔یعنی ان کے قدم گھر میں سکتے ہی نہیں تھے دنیا کے گوشوں گوشوں میں پھیلتے چلے جاتے تھے۔اور جہاں جاتے تھے اپنی خوش اخلاقی اور اعلیٰ درجہ کے چلن کی خوشبو پھیلاتے جاتے تھے۔لیکن کجاوہ پھیلنے والا مسلمان اور گجا آج کا سمٹنے والا مسلمان کجا وہ زمانہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ