زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 229
زریں ہدایات (برائے طلباء) 229 جلد چهارم کارنامے سرانجام دیئے ہیں اور اُن کی یہ شان تھی اور اس کے مقابلہ میں وہ یہ دیکھتا ہے کہ ہم کیا ہیں اور پھر وہ اس چلن اور طریق کو دیکھتا ہے جو اُس نے اور اُس کے ساتھیوں نے اختیار کیا ہوا ہے تو دیانتداری کے ساتھ وہ یہ سمجھنے پر مجبور ہوتا ہے کہ میری غفلت اور میری سهل انگاری اور میری اپنے فرائض سے کوتاہی اور میری عیش و آرام کی زندگی مجھ کو مجرم بنانے کے لئے کافی ہے۔اسے تاریخ کے اس آئینہ میں اپنا گھناؤنا چہرہ نظر آ جاتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ جب میں پرانے حالات پڑھوں گا اور دیکھوں گا کہ وہ لوگ جو میرے آباء تھے ان کاموں سے نفرت کیا کرتے تھے تو مجھے بھی اپنے اندر تغیر پیدا کرنا پڑے گا۔پس وہ اپنے بدصورت چہرہ کو ان کے خوبصورت چہرہ سے ملانے سے گھبراتا ہے اور اس لئے تاریخ سے دور بھاگتا ہے۔جب آجکل کا مسلمان تاریخ کے آئینہ میں یہ دیکھتا ہے کہ اس کے باپ اور ماں ہمالیہ سے بھی اونچے قدوں والے تھے، آسمان بھی ان کے دبدبہ سے کانپتا تھا اور اس کے مقابلہ میں وہ اپنی تصویر کا خیال کرتا ہے کہ بالکل ایک بالشتیہ نظر آتی ہے اور اس کی مثال ایک کا رک جتنی بھی نہیں جو دریا میں بہتا چلا جاتا ہے۔سمندر کی پہریں اٹھتی ہیں اور اُس کے آباؤ اجداد کی مضبوط چٹان سے ٹکراتی ہیں اور وہ بلند و بالا ہونے والی لہریں جن کو دیکھ کر بسا اوقات انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ دنیا کو بہا کر لے جائیں گی وہ اُس کے آباؤ اجداد کی چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتی ہیں۔ان کا پانی جھاگ بن کر رہ جاتا ہے اور اس چٹان کے قدموں میں وہ جھاگ پھیل رہی ہوتی ہے۔ہوا میں بلبلے پھٹ پھٹ کر غائب ہوتے چلے جاتے ہیں اور اس کو نظر آتا ہے کہ اس کے آباؤ اجداد کی کیا شان تھی۔پھر وہ اپنی طرف دیکھتا ہے کہ ایک چھوٹی سی ندی جس کی حیثیت ہی نہیں ہوتی اس میں وہ ایک کارک کی طرح اِدھر اُدھر پھر رہا ہے۔کبھی وہ کسی چٹان سے ٹکراتا ہے اور کبھی کسی سے۔کبھی دائیں طرف چلا جاتا ہے اور کبھی بائیں طرف کبھی وہ خس و خاشاک کے ڈھیروں میں چھپ جاتا ہے اور کبھی گندی جھاگ میں۔اور ہر شخص اس کی لرزتی اور کپکپاتی ہوئی حالت کو دیکھ کر اس سے اپنا منہ پھیر لیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ کیا ہی ذلیل چیز