زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 228

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 228 جلد چهارم کو لیتی ہیں اور وہی قوم جو کسی وقت آسمان پر چاند اور ستاروں کی طرح چمک رہی ہوتی ہے نہایت ذلیل اور حقیر ہو کر رہ جاتی ہے۔تم اپنے ہی اسلاف کو دیکھو اگر تمہیں اپنے بناؤ اور سنگار سے فرصت ہو کہ تمہارے اسلاف کیا تھے اور اب تم کیا ہو۔مجھے بتایا گیا ہے کہ کالج کی طالبات نے جب مضمونوں کا انتخاب کیا تو ان میں سے اکثر نے تاریخ سے بچنے کی کوشش کی۔یہ بالکل ایسی ہی بات ہے جیسے ہم کسی بچہ کو کہیں کہ آؤ ہم تمہیں تمہارے ماں باپ کا نام بتائیں اور وہ بھاگے۔تاریخ کیا ہے؟ تاریخ تمہیں بتاتی ہے کہ تمہارا باپ کون تھا، تمہارا دا دا کون تھا، تمہاری ماں کون تھی ، تمہاری نانی کون تھی۔تاریخ تمہیں بتاتی ہے کہ تمہارے آباؤ اجداد کیا تھے اور اب تم کیا ہو۔تاریخ سے کسی شخص کا بھا گنا یا اس مضمون کو بوجھل سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے آباؤ اجداد کی بات سننے کے لئے تیار نہ ہو۔حالانکہ اگر دنیوی لحاظ سے کوئی مضمون ایسا ہے جس کے حصول کے لئے ہمیں لڑنا چاہئے تو وہ تاریخ ہی ہے۔تاریخ سے بھاگنے کے معنی ہوتے ہیں طبیعت میں مردہ دلی ہے۔جیسے کسی کمزور آدمی کو زخم لگ جاتا ہے تو وہ کہتا ہے مجھے نہ دکھاؤ میں نہیں دیکھتا میرا دل ڈرتا ہے۔تاریخ سے بھاگنے والی قوم وہی ہوتی ہے جو ڈرپوک ہوتی ہے اور ڈرتی ہے کہ اگر میرے ماں باپ کی تاریخ میرے سامنے آئی اور اس میں میرا بھیانک چہرہ مجھے نظر آیا اور مجھے پتہ لگا کہ میں کون ہوں تو میرا دل برداشت نہیں کرے گا۔چونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اس آئینہ میں میری شکل مجھے نظر آئے گی اس لئے وہ اپنی شکل کے خیال اور تصور سے کہ وہ کتنی بدصورت ہوگی اسے دیکھنے سے اجتناب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔یہ بات فطرت انسانی میں داخل ہے کہ وہ اپنے آباؤ و اجداد اور اپنی اولاد اور اپنے رشتہ داروں کو اپنی شکل کا دیکھنا چاہتا ہے۔کئی ماں باپ جن کے ہاں کسی حادثہ یا بیماری کی وجہ سے بدصورت بچے پیدا ہو جاتے ہیں اُن سے اُن کی مائیں بھی نفرت کرنے لگتی ہیں اور وہ بدصورت بچے اپنے دوسرے بھائیوں سے نفرت کرنے لگتے ہیں اس خیال سے کہ یہ ہم سے اچھے ہیں۔اسی طرح جب تاریخ میں انسان اپنے آباء کو دیکھتا ہے کہ انہوں نے یہ یہ