زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 227
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 227 جلد چهارم جامعہ نصرت ربوہ کا افتتاح اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلو 14 جون 1951ء بروز جمعرات صبح سات بجے حضرت خلیفہ المسح الثانی نے جامعہ نصرت ربوہ کا افتتاح فرمایا۔اس موقع پر آپ نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو تقریر فرمائی وہ حسب ذیل ہے:۔زمانہ کے حالات بدلتے ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ انسان بھی بدلتا چلا جاتا ہے یہ ایک عام قانون ہے جو دنیا میں جاری ہے۔دریا چلتے ہیں اور پہاڑوں اور میدانوں کے نشیب و فراز کی وجہ سے ان کے بعض حصوں پر دباؤ پڑتا ہے اور اس کے نتیجہ میں کچھ دور جا کر دریا کا رخ بدل جاتا ہے۔بعض دفعہ دس دس پندرہ پندرہ ، بیس ہیں ، تمھیں تھیں میل تک دریا رخ بدلتے چلے جاتے ہیں۔اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان بدلتے ہیں اور ان کے ساتھ زمانہ بدل جاتا ہے۔یہ دونوں قسم کے نظارے ہمیں دنیا میں نظر آتے ہیں۔کبھی زمانہ کے بدلنے سے انسان بدلتے ہیں اور کبھی انسانوں کے بدلنے سے زمانہ بدلتا ہے۔انسان کمزور ہوتا ہے تو زمانہ کے بدلنے سے وہ بدل جاتا ہے اور جب طاقتور ہوتا ہے تو اُس کے بدلنے سے زمانہ بدل جاتا ہے۔کمزور قو میں اپنی حاصل شدہ عظمت اور طاقت کو زمانہ کے حالات کے مطابق بدلتی چلی جاتی ہیں۔وہ اپنے ہمسایوں سے بد رسوم کو لیتی ہیں، اپنے ہمسایوں سے بداخلاق کو لیتی ہیں ، اپنے ہمسایوں سے سستی اور جہالت کو لیتی ہیں، اپنے ہمسایوں سے جھوٹ اور فریب کو لیتی ہیں، اپنے ہمسایوں سے ظلم اور تعدی