زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 224

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 224 جلد چهارم عزت ملے کیونکہ تمہارے لئے اب موقع تھا کہ تم کوئی کام کر جاتے تا تمہاری آئندہ نسل عزت والی ہو جاتی لیکن تم نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا۔میں معترض کے ساتھ اس حد تک متفق ہوں کہ حرام خور نذرانے کھاتے ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ ان کو نذرانے ملنا یا ان کی حرام خوری کرنا ان کے نکما پن کے بدلہ میں نہیں بلکہ انہیں ان کے باپ دادوں کی قربانی کے نتیجہ میں نذرانے مل رہے ہیں جنہوں نے سچ سچ کام کیا تھا۔اس لئے وہ اس عزت میں جو انہیں ملی حق بجانب ہیں۔پس تمہارے لئے اب موقع ہے کہ تم قربانی کر کے اپنے آپ کو اور اپنی نسل کو کہیں سے کہیں لے جاؤ۔جب وہ دن آئے گا کہ ترازو کے ذریعہ باپ دادوں کے کام کا بدلہ دیا جائے گا تو تم لوگ جو وقف سے بھاگتے ہو تمہاری اولاد کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ معزز قرار دی جائے۔اُس دن انہی کی اولا د کو حصہ دیا جائے گا جو اب قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں گے اور یہی لوگ خدا تعالیٰ کے نزدیک معزز اور مقبول ہوں گے۔“ ( الفضل 24 مئی 1962ء) :1 بخاری کتاب الطب باب ما يذكر في الطاعون صفحہ 1012 حدیث 5729 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الثانية۔:2 بخارى كتاب المغازى باب غزوه الطائف حدیث 4330 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الثانية۔3 آل عمران : 145 صلى الله 4 بخاری کتاب المغازى باب مرض النبی و وفاته صفحه 757 حدیث 4454 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الثانية