زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 223
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 223 ☆ جلد چهارم موجودہ نسل دیکھتی ہے۔تم نے سائر میں دیکھی ہو گی۔اس کے ایک کنارے سے دیکھا جائے تو انسان پانچ چھ فٹ کا معلوم ہوتا ہے لیکن جب دوسرے کنارے سے دیکھتے ہیں تو اس کا آسمان سے سر لگا ہوا ہوتا ہے اور اس کا جسم زمین پر پھیلا ہوا ہوتا ہے۔یہی حالت تمہاری ہوگی۔اگر تم اب قربانی کرو گے تو آنے والی نسلیں تمہیں سائر بین سے دیکھیں گی۔تمہارا سر آسمان پر لگ رہا ہو گا اور جسم زمین پر پھیلا ہوا ہوگا۔پس اس وقت موقع ہے کہ تم قربانی کر لو تا تمہاری آنے والی نسل معزز گنی جائے۔اگر تم سب قربانی کرو گے تو اگر چہ تم غریب رہو گے لیکن تمہاری اس قربانی سے تمہارے پڑپوتے فائدہ اٹھائیں گے۔تمہاری آنے والی نسل کو لوگ سروں پر اٹھا ئیں گے اور کہیں گے تمہیں پتہ ہے کہ کس کے بیٹے ہیں؟ یہ فلاں رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں۔اور تم میں سے جو شخص قربانی نہیں کرتا اس کا پوتا پڑپوتا کہے گا یہ لوگ ہم سے بڑھ گئے ہیں۔یہ اگر چہ کم جائیداد والے ہیں لیکن لوگ ان کے قدم چومتے ہیں۔عقل مند ا سے یہی جواب دے گا کہ ان کے باپ دادا نے کسی وقت قربانی کی تھی جو ان کے کام آئی لیکن تمہارے باپ دادے نے وہ قربانی نہیں کی تھی۔تم بھول گئے۔خدا تعالیٰ نے اسے یاد رکھا۔ان کے باپ دادوں نے قربانیاں کی تھیں یہ ان کو بھول گئے لیکن خدا تعالیٰ کو ان کی قربانیاں یاد تھیں اور اس نے تم کو ان کا غلام بنا دیا۔آجکل کے خاں صاحب نے کوئی کام نہیں کیا اس کو کچھ بھی پتہ نہیں۔لیکن جب وہ کسی جگہ جاتا ہے تو تم میں سے ہر ایک یہ کہتا ہے کہ فلاں خاں صاحب تشریف لائے ہیں۔اسے پتہ بھی نہیں کہ سات آٹھ پشت قبل اس کے بزرگوں نے اپنے آپ کو تنوروں میں پھینک دیا تھا۔وہ آگ میں کودے اور انہوں نے اپنی قوم کو بلند کر دیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے آسمان پر کہا ان لوگوں نے اپنے آپ کو ہلاک کیا ہے تا ان کی قوم کو عزت نصیب ہو اس لئے ہماری طرف سے یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ ان کی نسل کو عزت دی جائے۔بس اب یہ چیز تمہارے اختیار میں ہے کہ تم دین کی خاطر قربانی کر کے اپنی آئندہ نسل کو معزز بنا لو ورنہ آٹھ دس پشتوں کے بعد تمہاری اولا د کو یہ حق نہیں ہو گا کہ اسے وہ