زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 17
زریں ہدایات (برائے طلباء) 17 جلد چهارم کہ ایک شخص خوش الحانی سے اذان دیا کرتا تھا۔مسجد کے قریب ایک سکھ رئیس کا مکان تھا۔اس کی لڑکی پر اذان کی آواز کا ایسا اثر ہوا کہ اس نے کہہ دیا میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔جب اس سے پوچھا گیا کہ مسلمان ہونے کی کیا وجہ ہے؟ تو اس نے کہا کہ اذان کی آواز سن کر میرا دل بے اختیار اسلام کی طرف کھینچا جاتا ہے۔اس پر اس سکھ رئیس نے اس مؤذن کو اس مسجد سے نکلوا دیا۔اور پھر ایک ایسا شخص مقرر ہوا جس کی آواز ویسی عمدہ نہ تھی۔اس کے بعد لڑکی سے پوچھا گیا تو کہنے لگی اب تو اسلام کوئی ایسا سچا نہیں معلوم ہوتا۔تو آواز میں بھی اثر ہوتا ہے اور صحت کے لئے آواز کا بلند ہونا ضروری ہوتا ہے۔جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اُس وقت رونا اس کے لئے ڈاکٹر مفید بتاتے ہیں۔پس ہر رنگ میں ورزش ہونی چاہئے۔صرف ہاکی یا فٹ بال کے ذریعہ جسمانی قومی کی ورزش کافی نہیں۔اگر آواز کی ورزش کی جائے تو وہ بھی بہت مفید ہوسکتی ہے۔ایک دفعہ میں ڈلہوزی گیا تو دیکھا دو پہاڑوں پر دو عورتیں کھڑی تھیں۔ان میں سے ایک مرد کے جذبات کا اور دوسری عورت کے جذبات محبت کا باری باری اشعار میں اظہار کرتی۔اور ان دونوں کی آواز دور سے خوب سنائی دیتی تھی۔پس گلے کی ورزش کی جائے تو آواز بلند اور عمدہ ہوسکتی ہے۔اور نہ صرف گلے کی ورزش کرنی چاہئے بلکہ آنکھوں کی ورزش بھی ہوتی ہے۔میں نے اس کے متعلق ایک ڈاکٹر سے ذکر کیا تو اس نے کہا میں نے کئی لوگوں کی آنکھوں کی ورزش کے ذریعہ نظر تیز کی ہے۔اسی طرح کانوں کی ورزش بھی ہوتی ہے۔ریڈ انڈین لوگوں میں کانوں کی مشق اتنی دیکھی گئی ہے کہ وہ زمین پر کان لگا کر پتہ لگا لیتے کہ دشمن اتنی دور آ رہا ہے۔انہیں مخالف لشکر کے چلنے کی گونج معلوم ہو جاتی ہے۔وہ لوگ جو کھو جی ہوتے ہیں ان کی آنکھوں کی مشق اتنی تیز ہوتی ہے کہ پاؤں کا نشان دیکھ کر سراغ لگا لیتے ہیں۔پس آنکھ، ناک، گلا وغیرہ سب کی ورزش سے ان میں طاقت پیدا ہوتی ہے۔جس طرح ورزش کرنے سے جسم طاقتور اور مضبوط ہو سکتا ہے، ہاتھ مضبوط ہو جاتے ہیں، سینہ چوڑا اور مضبوط ہو جاتا ہے، ٹانگوں میں طاقت آجاتی ہے اسی طرح آنکھ، ناک، کان اور گلے کی ورزش سے ان میں بھی زیادہ