زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 222

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 222 جلد چهارم عزت ملی ہے وہ اس لئے ملی ہے کہ اس کے کسی پڑدادے نے کسی وقت قربانی کی تھی۔اسے جو کچھ ملا ہے اس کے باپ دادا کی قربانی کے نتیجہ میں ملا ہے۔اسی طرح جاٹ، برهمن ، مغل، سید اور پٹھان ہیں یہ سب تو میں معزز گنی جاتی ہیں۔یہ بھی ایک نسلی عزت ہے جو انہیں حاصل ہے۔موجودہ مغلوں نے کچھ نہیں کیا، موجودہ پٹھانوں نے کچھ نہیں کیا ، موجودہ برہمنوں نے کچھ نہیں کیا۔بلکہ یہ عزتیں اور رہے ان کے دادوں پر دادوں کی قربانی کا نتیجہ ہیں جو انہوں نے اپنے وقت میں کی نسلی اور قومی عزتیں اور رتنے فورا نہیں ملتے بلکہ یہ کئی پشتوں کے بعد ملتے ہیں۔بعض عزتیں جلد مل جاتی ہیں اور بعض عزتیں آٹھ دس پشتوں کے بعد ملتی ہیں۔مثلاً ایک شخص تعلیم حاصل کرتا ہے اور وہ ہیڈ ماسٹر ہو جاتا ہے، انسپکٹر بن جاتا ہے یا اسے اور عہدہ مل جاتا ہے تو یہ نقد عزت ہے۔اس کا مقابلہ قومی عزت سے نہیں کیا جا سکتا۔تم پچاس جرنیل لے لو اور ان کی عزت کا قریشیوں اور سیدوں کی عزت سے مقابلہ کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ ان پچاس جرنیلوں کی قریشیوں اور سیدوں کے مقابلہ میں کوئی ہستی ہی نہیں۔پس انفرادی عزتیں لاکھوں کروڑوں انسانوں میں سے چند ایک کو ملتی ہیں۔لیکن نسلی عزتیں لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو ملتی ہیں۔انفرادی عزت فوری طور پر ملتی ہے اور فوراً چلی جاتی ہے لیکن نسلی عزت دیر سے ملتی ہے اور پھر ختم ہونے میں نہیں آتی۔گورنمنٹ کے کتنے عہد یدار یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ کسی طرح وہ پیروں اور گدی نشینوں کا اثر مٹا دیں لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔پیر پگاڑو کو لے لو۔وہ اس کے بچوں کو انگلینڈ لے گئے۔لیکن پاکستان والے مجبور ہو کر انہیں اب واپس لائے ہیں کیونکہ اس کی عزت قوم میں اس قدر پھیل چکی تھی کہ وہ مٹ نہ سکی۔پس وہ قربانیاں جن کا اجر نسلوں کے بعد ملتا ہے حقیر نہیں ہوتیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر تم اب قربانی کرو گے تو ایک چھوٹی سی جماعت کے لیڈر بنو گے لیکن یہی جماعت جب دو ارب ہو جائے ہو جائے گی تو اُس وقت کے لوگ تمہیں اس دور بین سے نہیں دیکھیں گے جس دوربین کے ساتھ تمہیں تمہاری۔