زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 220

زریں ہدایات (برائے طلباء) 220 جلد چهارم اس کی پاخانہ میں ضرورت ہوگی تو اسے پاخانہ میں لگا دیا جائے گا اور اگر اس کی چھت میں ضرورت ہو گی تو اسے چھت میں لگا دیا جائے گا۔اسی طرح قوم کے نو جوانوں کو یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ وہ کالجوں میں تعلیم حاصل کر کے ہی دین کی خدمت کر سکتے ہیں۔دیکھنا یہ چاہئے کہ اس وقت کس چیز کی ضرورت ہے۔اگر سلسلہ کو علماء کے ذریعہ ترقی مل سکتی ہے تو انہیں علماء بن کر اس کی خدمت کرنی چاہئے۔اگر ڈاکٹروں کے ذریعہ سلسلہ کو ترقی مل سکتی ہو تو انہیں ڈاکٹر بن کر اس کی خدمت کرنی چاہئے۔اور اگر سپاہیوں کے ذریعہ اسے ترقی مل سکتی ہو تو سپاہی بن کر اس کی خدمت کرنی چاہئے۔ترقی کا راز یہی ہے۔اگر تم کہتے ہو کہ ہم اپنی مرضی کے مطابق تعلیم حاصل کر لیں پھر دین کی خدمت کریں گے تو تم نظام کی مضبوطی کا باعث نہیں بنو گے بلکہ اس میں مخل ہو گے۔مجھے تو کچھ انگریزی کی شد بد ہے لیکن اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ بی۔اے یا ایم۔اے ہو کر ہی سلسلہ کی خدمت ہو سکتی ہے تو تم اپنے پہلے دو لیڈروں کی خطرناک ہتک کرتے ہو کیونکہ وہ دونوں انگریزی کا ایک حرف بھی نہیں جانتے تھے۔میں بھی پرائمری فیل ہوں۔اگر میں نے اپنے طور پر کتابیں پڑھی ہیں تو تم بھی پڑھ سکتے ہو۔تمہاری دینی تعلیم بہر حال مجھ سے زیادہ ہے کیونکہ میں نے با قاعدہ دینی تعلیم حاصل نہیں کی۔پس ضرورت ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان آگے آئیں اور دین کے لئے اپنی زندگیاں پیش کریں۔افریقہ کے علاقے میں ایک دفعہ دو عیسائی مشنری مارے گئے۔مردم خور انسانوں نے انہیں کھا لیا۔جب انگلستان میں یہ خبر پہنچی تو گر جا کے بانی ڈر گئے کہ اگر یہ خبر ملک میں پھیل گئی تو اور آدمی نہیں مل سکیں گے۔لیکن جب یہ خبر ملک میں پھیلی تو انہیں پانچ سو آدمیوں کی طرف سے تاریں ملیں کہ ان مشنریوں کی جگہ ہمیں بھجوا دیا جائے۔اس سے پتہ لگتا ہے کہ گو عیسائیت مر چکی ہے لیکن عیسائیوں کو مذہب سے محبت ہے۔تو افریقوں نے یہ سمجھا کہ اگر ہم انہیں مار کر کھا لیں گے تو شاید دوسرے لوگ ڈر جائیں اور اس طرف منہ نہ کریں لیکن ہوا یہ کہ انہوں نے دو آدمی کھائے اور سینکڑوں نے وہاں جانے کے لئے اپنے نام پیش کر دیئے۔یہ روح ہے جس