زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 213

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 213 جلد چهارم لوگ یہ کہتے تھے کہ اگر یہ مر گئے تو کیا ہوگا۔مگر وہ مرے اور دنیا اسی طرح چلتی چلی گئی۔پس حقیقت یہ ہے کہ جب قوم اپنے کیریکٹر اور قربانی کی روح کو قائم کر لیتی ہے تو اس کو کوئی تباہ نہیں کر سکتا۔لیکن جب وہ اپنے کیریکٹر اور قربانی کی روح کو قائم نہیں رکھتی تو بڑے بڑے بادشاہ بھی فیل ہو جاتے ہیں اور وہ قوم کو ابھار نہیں سکتے۔دیکھنے والی بات یہ ہوتی ہے کہ قوم کی کیا حالت ہے۔جب افراد ا چھے ہوں تو اس قوم کی زندگی کے دن لمبے ہو جاتے ہیں۔انگریز پانچ سو سال سے حکومت کر رہے ہیں لیکن وہ بدلے نہیں۔ہم بدل گئے ہیں۔اس لئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں اور ہم صرف نعرے لگانا جانتے ہیں۔لیکن انگلینڈ اور امریکہ والے نعروں کے قابو میں نہیں آئے۔وہی پر چل جس نے انگلینڈ کو خطرات سے اُس وقت بچایا تھا جب وہ سمجھتا تھا کہ وہ جرمن کے سامنے گھٹنے ٹیک دے گا اسے اس نے ہٹا دیا اور ایٹلی (Attlee ) کو آگے لے آیا جو اکثریت کا نمائندہ تھا۔یہ بات ایک لحاظ سے غیر معمولی تھی اور ایک لحاظ سے معمولی تھی۔غیر معمولی اس لحاظ سے تھی کہ ملک نے قوم کو جہنم سے نکالنے والے کو پیچھے ہٹا دیا۔اور معمولی اس لئے کہ لبرل پارٹی برسر اقتدار آ گئی جو اکثریت میں تھی۔اب پھر دیکھو اکثریت اگر چہ مزدوروں کی تھی لیکن جب انہوں نے اپنا مفاد اس میں سمجھا کہ چرچل کو جو کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھتے تھے آگے لایا جائے تو وہ اسے آگے لے آئے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ قوم کا ہر فرد تعلیم یافتہ ہے اور اپنی ذمہ داری کو سمجھتا ہے۔وہ کسی کو اس لئے ووٹ نہیں دیتا کہ وہ اس کی پارٹی کا ایک فرد ہے بلکہ وہ اسے اس لئے ووٹ دیتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے میں انگریز ہوں اور انگریزی قوم کے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے ووٹ دوں گا۔کل ہی میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا اس میں لکھا تھا کہ فرانس کے ایک جرنیل کو ایک آرڈر آیا جو ظالمانہ تھا۔یہ دیکھ کر کہ وہ آرڈر نہایت ظالمانہ ہے دوستوں نے اسے مشورہ دیا کہ تم اسے رد کر دو۔یہ جرنیل وہی تھا جس نے سسلی کو فتح کیا تھا اور اسے مسلمان جرنیل موسیٰ کی طرح مسلی فتح کر لینے کے بعد سزا ملی۔اس نے کہا تم مجھے غلط مشورہ دیتے ہو