زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 211
زریں ہدایات (برائے طلباء) 211 جلد چهارم اور مدینہ سے بیسیوں گنا بڑے ہیں۔بہر حال وہ دن خواہ دیر سے آئے یا جلد آ جائے۔جس رنگ میں خدا تعالیٰ سے یہاں التجائیں کی گئی ہیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے خدا تعالیٰ ربوہ کو بھی ضرور آباد ر کھے گا۔یہ زمین ہزاروں سال سے فریاد کر رہی تھی کہ خدا تعالیٰ کا نام لینے والے یہاں آکر ہیں۔اب خدا تعالیٰ نے اس بنجر اور بے آب و گیاہ وادی کو رونق بخشی اور اسے آباد کیا۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ خدا تعالیٰ کی دین ہے اور خدا تعالیٰ کی دین عارضی نہیں ہوتی۔وہ یقیناً اس بستی کو آبا در کھے گا اور ہمیشہ اس کی ترقی کے سامان پیدا کرتا چلا جائے گا کیونکہ جب خدا تعالیٰ کا نام کسی جگہ پر لیا جاتا ہے تو وہ جگہ ویران نہیں ہوتی۔وہ مٹائی نہیں جاتی۔پس یہاں بھی ہمارا سکول ہو گا۔لڑکے آئیں گے اور اس میں پڑھیں گے۔اور یقینا وہ لوگ جو باہر سے یہاں آئیں گے وہ ویسی ہی برکتیں پانے والے ہوں گے جیسی برکتیں انہیں قادیان سے حاصل تھیں۔جو شخص صرف اس لئے قادیان جاتا تھا کہ اسے قادیان پسند تھا ہم اسے کہیں گے کہ قادیان اب ہندوستان میں رہ گیا ہے۔لیکن جو اس لئے قادیان جاتا تھا کہ وہاں خدا تعالیٰ کی مرضی پوری ہوئی تو ہم اسے کہیں گے تمہیں یہاں بھی ویسی ہی برکتیں مل سکتی ہیں جیسی برکتیں تمہیں قادیان میں ملتی تھیں۔ہمارا یہ جواب ویسا ہی ہوگا جیسے حضرت ابو بکر نے رسول کریم ﷺ کی وفات کے وقت بعض صحابہ کو دیا۔جب ان کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوا کہ آپ فوت نہیں ہوئے بلکہ وقتی طور پر خدا تعالیٰ کی کسی حکمت کے ماتحت ہم سے جدا ہوئے ہیں۔حضرت ابو بکڑ نے جب یہ بات سنی تو آپ مسجد میں تشریف لے گئے اور منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا میں نے سنا ہے کہ تم ایسا کہتے ہو لیکن تمہیں یاد رکھنا چاہئے مد (ﷺ ) خدا تعالیٰ کے ایک رسول تھے۔قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اس سے پہلے اور رسول بھی تھے جو گزر گئے آفَابِن ماتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ 3 کیا آپ مر جائیں گے یا قتل کئے جائیں گے تو تم اپنا دین چھوڑ دو گے؟ پھر آپ نے فرمایا سنوا مَنْ كَانَ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ جو شخص تم میں سے محمد (ﷺ) کی عبادت کرتا تھا وہ یا در رکھے کہ محمد رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے ہیں۔وَمَنْ كَانَ مِنْكُمُ عليسة