زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 208
زریں ہدایات (برائے طلباء) 208 جلد چهارم طرف بھاگتے ہیں یعنی جس خدا نے طاعون بھیجی ہے اس نے ہی قانون بنایا ہے کہ اگر تم دور دور علاقوں میں پھیل جاؤ اور اکٹھے نہ رہو تو اس سے محفوظ رہو گے۔ہر تقدیر خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہوتی ہے۔اور اگر ہر تقدیر خدا تعالیٰ کی طرف سے جاری ہو گئی ہے تو کیا یہ حماقت نہیں کہ ہم اس تقدیر کے نیچے تو بیٹھے رہیں جو ابتلا لاتی ہے اور اس تقدیر کی طرف نہ جائیں جو رحمت لاتی ہے۔غرض ہم غیر کی طرف نہیں جا رہے بلکہ خدا تعالیٰ کی ہی مقرر کردہ دوسری تقدیر کی طرف جا رہے ہیں۔پس بے شک یہ باتیں بعض لوگوں کے لئے تکلیف دہ ہیں لیکن جب خدا تعالیٰ کی یہ مرضی ہے کہ ہم قادیان سے باہر رہیں تو ہمیں باہر ہی رہنا پڑے گا۔خدا تعالیٰ کے الہامات اور پیشگوئیوں سے پتہ لگتا ہے کہ قادیان ہمیں ضرور واپس ملے گا لیکن اگر اس کے واپس ملنے میں دس یا بیس سال بھی گزر جائیں بلکہ اگر ہماری انگلی نسل چھوڑ کر تیسری نسل بھی گزر جائے تو ہم اس کے لئے تیار ہیں۔ہم یہ جانتے ہیں کہ قادیان ضرور ہمیں واپس ملے گا۔مگر کب ملے گا؟ اس کا علم خدا تعالیٰ کو ہے۔ہمیں قادیان چھن جانے کی وجہ سے دکھ ضرور ہوتا ہے لیکن ہمارا حقیقی سکھ اسی میں ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کا فیصلہ منظور کریں۔بے شک کمزور ذہن والے لوگ اس قسم کی باتیں سن کر گھبرا جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم قادیان نہیں جائیں گے۔میں کہتا ہوں یہ بات غلط ہے۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہم قادیان جائیں گے لیکن یہ بات ہمارے اختیار میں نہیں اور نہ ہمیں اس چیز کو اپنے اختیار میں لینا چاہئے۔یہ خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور وہی ہمیں واپس لے جائے گا تو ہم واپس جائیں گے۔ہم خدا تعالیٰ کے نوکر ہیں قادیان یا کسی اور کے نوکر نہیں۔بہر حال جب خدا تعالیٰ کی مشیت یہی ہے کہ ہم نے کچھ عرصہ تک قادیان سے باہر رہنا ہے تو ربوہ آباد ہوگا اور ایک بڑا شہر بنے گا۔اور یہاں کے رہنے والوں کے بچے بھی ہوں گے اور اگر اُس وقت سکول کے طلباء کی تعداد انیس سو یا دو ہزار بھی ہو جائے تو بڑی بات نہیں۔