زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 207
زریں ہدایات (برائے طلباء) 207 جلد چهارم بلکہ وہ ہمیں اس لئے پیارا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے قائم کیا ہے۔بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس جواب کے بعد ہمارا سوال حل ہو جاتا ہے لیکن دراصل ہمارا سوال حل نہیں ہوا بلکہ یہ جواب دے کر ہم نے اپنے خلاف فتویٰ دے دیا ہے کیونکہ ہم نے تسلیم کر لیا ہے کہ کسی جگہ ہمارے باپ دادوں کا پیدا ہونا کوئی حقیقت نہیں رکھتا بلکہ خدا تعالیٰ کا حکم ہمارے لئے قیمتی چیز ہے۔اور اگر خدا تعالیٰ کا حکم ہمارے نزدیک زیادہ قیمت رکھتا ہے تو اگر خدا تعالیٰ کہے کہ تم قادیان سے باہر رہو تو بہر حال اس کی بات ہی مانی جائے گی اور ہماری سعادت اسی میں ہوگی کہ ہم اس حکم کو بخندہ پیشانی مان لیں۔پس اگر ہم نے یہ دلیل دی ہے تو در حقیقت ایسے لوگوں کے خلاف دی ہے جن پر یہ بات سخت گراں گزرتی ہے کہ ہم کہیں ایک یا دو سال میں ہمارار بوہ آباد ہو جائے گا۔قادیان ہمیں اس لئے پیارا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اسے قائم کیا ہے اور اگر خدا تعالیٰ کہے کہ تم قادیان سے باہر رہو تو پھر ہمیں قادیان سے باہر ہی رہنا پڑے گا اور ہما را با ہر رہنا ہی اس کی رضا کا موجب ہوگا۔صحابہ کے زمانہ میں ایک دفعہ اتنی سخت طاعون پڑی کہ اس کی وجہ سے ہزاروں آدمی مر گئے اور مسلمان لشکر اس بیماری کی وجہ سے اس قدر تباہ ہوا کہ یہ خطرہ محسوس ہوتا تھا کہ اگر رومن سلطنت نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا تو وہ اس کے حملہ کی تاب نہیں لاسکیں گے اور کچلے جائیں گے۔صحابہ نے مقامی لوگوں سے دریافت کیا کہ جب طاعون پڑتی ہے تو وہ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ہم لوگ پہاڑوں پر چلے جاتے ہیں اور اکٹھے ہو کر نہیں رہتے۔اس پر بعض صحابہ نے فیصلہ کیا کہ وہ پہاڑوں پر پھیل جائیں لیکن حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے جو کمانڈر انچیف تھے اعتراض کیا کہ کیا تم اس بات کے قائل نہیں کہ ہر بلا خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے؟ اور اگر ہر بلا خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے تو أَتَفِرُّونَ مِنْ قَضَاءِ اللهِ کیا تم اللہ تعالیٰ کی قضا سے بھاگتے ہو؟ جن صحابہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ لشکر پہاڑوں پر پھیلا دیا جائے انہوں نے جواب دیا کہ نعم نَفِرُّ مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ إِلَى قَضَاءِ اللهِ 1 ہاں ہم خدا تعالیٰ کی قضا سے اس کی قضا کی رم