زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 203

زریں ہدایات (برائے طلباء) 203 جلد چهارم ہے اس کی بڑی وجہ تو یہی ہے کہ جس جگہ اب سکول قائم ہوا ہے وہاں جماعت کے افراد کم ہیں اور دوسرے لوگوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ وہ اس سے تعصب رکھتے ہیں اس لئے خواہ ہمارے سکول کی تعلیم بہترین ہو وہ اس میں اپنے لڑکے داخل نہیں کراتے۔طلباء کی جو تعداد ہے وہ قادیان میں آخری زمانہ میں طلباء کی تعداد سے ایک تہائی سے بھی کم ہے۔ربوہ میں بھی ابھی پوری طرح مکانات نہیں بنے بلکہ ابھی بیسواں حصہ بھی مکانات نہیں بنے۔جب پوری طرح مکانات بن جائیں گے اور یہاں کی آبادی دس پندرہ ہزار کے درمیان ہو جائے گی تو بیرونی طلباء کو ملا کر سکول کے طلباء کی تعداد بارہ چودہ سو ہو سکے گی۔پھر جس طرح جماعت کے دوست تعلیم کے لئے اپنے لڑکے یہاں بھیجتے تھے اگر وہ اپنے لڑ کے تعلیم کے لئے یہاں بھیجنا شروع کر دیں تو کچھ بعید نہیں کہ طلباء دو ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ ہو جائیں۔بظاہر یہ باتیں بعض ایسے لوگوں کو جو اگر چہ مخلص ہیں لیکن وہ الہی سنت کا مطالعہ کرنے کے عادی نہیں بری لگتی ہیں اور ہم جب کہتے ہیں کہ ربوہ سال یا دو سال کے بعد آباد ہو جائے گا اور یہاں رہنے والے زیادہ ہو جائیں گے تو ان لوگوں کو جو اخلاص تو رکھتے ہیں لیکن غلطی خوردہ ہیں تکلیف ہوتی ہے کہ اس طرح گویا ہم دو چار سال اور قادیان سے باہر رہیں گے۔بے شک جہاں تک ان کے اخلاص کا تعلق ہے وہ قابل قدر ہے لیکن جہاں تک سنت اللہ کا سوال ہے یہ نہایت غلطی خوردہ خیال ہے۔مشہور تاریخ میں ایک مثال آتی ہے وہ مثال اتنی مشہور ہے کہ اس کا ایک حصہ عوام میں عام طور در ہے۔شعراء شعروں میں محمود و ایاز کے قصے بیان کرتے ہیں۔یہ ایاز در حقیقت ایک غلام تھا۔وہ تعلق تو کسی اچھے خاندان سے رکھتا تھا لیکن کسی لڑائی میں قیدی بنا لیا گیا اور اس طرح غلام ہو کر محمود کے پاس آیا۔وہ ابھی بچہ ہی تھا کہ بادشاہ کو اس کی شکل عقل اور ذہانت پسند آئی اور اس نے اسے اپنی خدمت میں رکھ لیا اور بعد میں اس کی دانائی اور عقل کو دیکھ کر اس کا درجہ بلند کرتا گیا یہاں تک کہ وہ اس کے مقربین میں سے ہو گیا اور