زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 14
زریں ہدایات (برائے طلباء) 14 جلد چهارم احمد یہ سپورٹس کلب سے خطاب 26 مارچ1934ء کو حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے احمد یہ سپورٹس کلب سے جو خطاب فرمایا وہ حسب ذیل ہے۔تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔اس وقت جو ایڈریس پڑھا گیا ہے اس میں ایک تو یہ خواہش ظاہر کی گئی ہے کہ میں کلب کی سر پرستی منظور کروں۔سر پرستی کا لفظ ہمیشہ ہی میرے لئے شبہ کا باعث بن رہا ہے اور کبھی اس کی حقیقت میری سمجھ میں نہیں آئی۔کیونکہ عام طور پر سر پرست بڑے کو کہتے ہیں لیکن معنوی لحاظ سے سر پرست چھوٹا ہوتا ہے۔پھر مسلم اور خدا کے سوا کسی اور چیز کی پرستش جمع بھی نہیں ہوا کرتی۔بہر حال جن معنوں کے لحاظ سے یہ ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے میرے نزدیک اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ جو خاص چندہ مقرر ہو اس کے دینے والوں کا نام سر پرست رکھ دیا جاتا ہے۔اس چندہ کے دینے سے مجھے انکار نہیں اور میں وہ دینے کے لئے تیار ہوں۔پھر اگر سر پرستی کے معنے وہ ہیں جو عام طور پر لئے جاتے ہیں یعنی توجہ کرنا ، خیال رکھنا اور نگرانی کرنا تو یہ بحیثیت درجہ کے جماعت کے ہر کام کی ہر وقت خلیفہ کے سپر د ہوا ہی کرتی ہے۔دوسری خواہش یہ کی گئی ہے کہ احمد یہ ٹورنامنٹ کا احیاء کیا جائے۔مجھے یاد نہیں کہ احمدیہ ٹورنامنٹ کے ختم کر دینے یا بند کرنے کے متعلق میری طرف سے کوئی ہدایت کی گئی ہو۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں میں نے ہمیشہ اس قسم کے ٹورنامنٹ کی تائید کی اور اسے پسند کیا ہے۔ان حالات میں مناسب یہ ہے کہ ممبران کلب ناظر تعلیم و تربیت کو توجہ دلائیں جن کا کام اس بارے میں میری ہدایت پر عمل کرنا ہے۔اگر ٹورنامنٹ کے متعلق احکام موجود ہیں اور پھر اس کے التوا کی کوئی وجوہات ہیں تو وہ ناظر صاحب تعلیم و تربیت ہی بتا سکتے ہیں۔ممبران کلب ان سے