زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 193

زریں ہدایات (برائے طلباء) 193 جلد چهارم تغیر سے انسان انسانیت کے فن میں کمال پیدا کرتا ہے۔جس طرح سدھانے والے کے گرد چکر میں دوڑ کر گھوڑا گھوڑے کی قابلیتوں میں کمال حاصل کرتا ہے اور اسی کمال کے مختلف ٹکڑے ترقی کے نام سے موسوم ہوتے ہیں۔غرض آیت مذکورہ بالا میں یہ امر واضح کیا گیا ہے کہ صفات باری تعالیٰ میں ہر وقت ایک نئی تبدیلی پیدا ہوتی رہتی ہے اور اس تبدیلی کے ساتھ انسان کو بھی اپنے اندر صفات باری کے موجودہ دور کے مطابق تبدیلی کرنی پڑتی ہے اور اس سے بنی نوع انسان کا قدم ترقی کی طرف اٹھتا ہے۔دنیا کی تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مختلف ادوار میں بنی نوع انسان کا قدم ترقی کی ایک خاص جہت کی طرف اٹھا ہے۔کسی وقت فلسفہ کا دور آیا ہے تو کسی وقت ادب کا۔کسی وقت اخلاق کا دور آیا ہے تو کسی وقت فنون لطیفہ کا۔کسی وقت قانون سازی کا دور آیا ہے تو کسی وقت تہور و شجاعت کا۔غرض اچھے انسانی دماغوں میں ہر زمانہ میں ایک ہم آہنگی معلوم ہوتی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم بالا کی کشش ہر زمانہ کے اعلیٰ دماغوں کو اس زمانہ کے صفاتی دور کی طرف کھینچنے میں لگی رہتی ہے اور اس فن میں انسانی دماغ زیادہ ترقی کر جاتا ہے۔جس طرح کہ صفات باری اس وقت اشارہ کر رہی ہوتی ہیں۔قرآن کریم نے اسے ملاء اعلیٰ کی مشاورت کا نام دیا ہے۔یہ آسمانی فیصلے جس طرح روحانی امور کے متعلق ہوتے ہیں اسی طرح دنیوی علوم کے متعلق بھی ہوتے ہیں اور وہ دماغ جو اپنا زاویہ صفات باری کے موجودہ زاویہ کے عین مطابق کر دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اپنے زمانے کے اور اپنے فن کے راہنما بننے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور تاریخ میں ایک نام پیدا کر لیتے ہیں۔صلى الله اس کی طرف رسول کریم ﷺ نے دعائے استخارہ سے اشارہ کیا ہے۔انسان بے شک اپنی محنت کا پھل کھاتا ہے لیکن بے موسم محنت بھی تو رائیگاں جاتی ہے۔شاید ہر غلہ سال کے ہر حصہ میں بویا جا سکتا ہے اور کچھ نہ کچھ روئیدگی بھی اس سے حاصل کی جاسکتی ہے لیکن وہ