زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 182
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 182 جلد چهارم ہے۔پس اس میں صرف یہ اشارہ ہے کہ مومن کو ہر وقت ہوشیار رہنا چاہئے مگر آجکل کے جاہلوں نے بے وقوفی سے اس کے یہ معنی سمجھ لئے ہیں کہ کسی مسلمان پر بھی شک نہیں کرنا چاہئے اور اس حدیث کو جو اپنے اندر نہایت لطیف معنے رکھتی ہے کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں کوئی شخص کتاب پڑھ رہا تھا اس میں اس نے پڑھا کہ جس شخص کا سر چھوٹا اور داڑھی لمبی ہو وہ بے وقوف ہوتا ہے۔اس نے اپنے سر کو دیکھا تو وہ چھوٹا تھا اور داڑھی کو دیکھا تو وہ لمبی تھی۔اس نے حماقت سے یہ سمجھ لیا کہ صبح کو ہر شخص جو مجھے دیکھے گا وہ میرے سر کو چھوٹا اور داڑھی کو لمبا دیکھ کر کہے گا کہ یہ بے وقوف ہے۔اس نے سوچا کہ سرکوتو میں بڑا نہیں کر سکتا اور سر کو چھپایا بھی جاسکتا ہے بڑی سی پگڑی سر پر رکھ دوں گا۔مگر داڑھی کا کوئی انتظام ہونا چاہئے۔قینچی تو اس کے گھر میں تھی نہیں جس سے وہ داڑھی کو کاٹ کر چھوٹا کر سکتا۔دیا جل رہا تھا ( اس زمانے میں لیمپ نہیں ہوتے تھے بلکہ لوگ دیئے جلاتے تھے ) اس نے سوچا ایک مشت سے جتنی لمبی داڑھی ہے اس کو کم کر دینا چاہئے۔چنانچہ اس نے مشت میں داڑھی پکڑ کر دئیے کے اوپر رکھ دی۔داڑھی جلتے جلتے جب آگ کی گرمی اس کے ہاتھ کو پہنچی تو جھٹ اس نے ہاتھ چھوڑ دیا اور ساری داڑھی جل گئی۔وہ کہنے لگا واقعی میں بے وقوف ہوں اور کتاب والے نے بالکل ٹھیک لکھا ہے۔اسی طرح أهلُ الْجَنَّةِ بُلہ میں ایک نہایت اعلیٰ درجہ کا نکتہ بیان کیا گیا تھا مگر نادانوں نے اس کی شکل کو بگاڑ دیا۔اس کا مطلب تو یہ تھا کہ جن سے بدی کا امکان ہی نہ ہوان پر بدظنی کرنا بے ایمانی ہوتی ہے۔جب کوئی ٹرنک کو تالہ لگاتا ہے تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ کوئی چور اس میں سے کچھ لے نہ جائے۔لیکن اپنے گھر میں وہ ہر وقت تالا نہیں دیکھتا کیونکہ اسے اپنے بیوی بچوں پر اعتماد ہوتا ہے۔اسی طرح جہاں غیروں سے ہوشیار رہنا نیکی ہے وہاں ایسے لوگوں پر بدظنی کرنا بھی جن سے برائی کا امکان ہی نہ ہو گناہ ہے۔اھلُ الْجَنَّةِ کے متعلق تو اللہ تعالیٰ کی شہادت موجود ہے کہ وہ نیکی اور تقدس کے اعلیٰ مقام پر ہیں۔پس اگر کوئی اہل جنت سے اپنا بنوا سنبھالتا ہے تو وہ اپنی بے ایمانی