زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 176
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 176 جلد چهارم زیادہ مار کرے گی۔پرانے زمانہ کی قسم کی تو ہیں اب بھی لو ہار بناتے ہیں لیکن چونکہ ان میں صفائی نہیں ہوتی اس لئے وہ دو چار سو گز اور زیادہ سے زیادہ پانچ سو گز تک مار کرتی ہیں۔لیکن جو تو ہیں scientific اصول پر بنائی جاتی ہیں وہ چار چار پانچ پانچ میل تک مار کرتی ہیں۔اسی طرح بندوق کا حال ہے۔پھر جب نالی میں سے گولا نکلتا ہے تو اس کی گرمی کی وجہ سے لوہے پر اس کا اثر پڑتا ہے جس کی وجہ سے نالی ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ہمارے سرحد کے پٹھان جو تو ہیں بناتے ہیں وہ چند ماہ کے بعد خراب ہو جاتی ہیں لیکن سائنس کے ذریعہ اب ایسی تو میں بنی ہیں جن پر گولے کا اثر کم سے کم ہوتا ہے یا وہ کم سے کم خرابی قبول کرتی ہیں اور کام زیادہ لمبے عرصہ تک دیتی ہیں۔کیونکہ ان کا لوہا خاص طور پر تیار کیا جاتا ہے۔اگر سرحدی تو ہیں چھ سات ماہ تک کام دیتی ہیں تو یہ 8 ، 10 سال تک کام دے جاتی ہیں۔تو یہ ساری چیزیں علم کی وجہ سے دنیا میں قائم ہیں اور جو قو میں ہار رہی ہیں وہ جہالت کی وجہ سے ہار رہی ہیں۔علم اتنی جلدی جلدی ترقی کر رہا ہے کہ پہلے گدھوں پر سواری ہوتی تھی۔پھر گھوڑوں پر ہونے لگی۔پھر رتھوں ،شکرموں پر سواری شروع ہوئی۔پھر سائیکل نکل آئے ، پھر موٹریں آگئیں، پھر ریل آئی ، پھر ہوائی جہاز آ گئے ، اسی طرح ہمارا علم بھی بڑھتا چلا جانا چاہئے یہاں تک کہ ہم آگے بڑھی ہوئی قوموں کے برابر ہو جائیں۔آج جو دنیا میں کھڑا رہے گا گر جائے گا۔پہلے بھی ایسا ہی ہوتا تھا لیکن اس زمانہ میں تو دنیا حیرت انگیز طور پر ترقی کی طرف اپنا قدم بڑھا رہی ہے۔آج اگر ایک آدمی موٹر میں سوار ہو کر جا رہا ہے اور ایک آدمی سڑک کے کنارے کھڑا ہے تو ہیں چھپیس سیکنڈ میں ہی پتہ لگ جاتا ہے کہ وہ کتنا آگے نکل گیا ہے اور یہ کتنا پیچھے رہ گیا ہے۔پس اس زمانہ میں کسی آدمی کا کھڑا ہونا اپنی موت کا آپ فتویٰ دینا ہے۔اس لئے ہمارے نوجوانوں کو صرف نعروں پر ہی نہیں رہنا چاہئے۔بعض نو جوان خصوصاً سکول کے لڑکے جب کسی جلوس کی صورت میں کہیں جاتے ہیں تو نعرے لگاتے جاتے ہیں۔فلاں زندہ باد، فلاں زندہ باد۔حالانکہ صرف زندہ باد کہنے سے کیا بنتا ہے۔زندہ باد کہنے سے نہ تم اور نہ تمہاری قوم زندہ رہ