زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 175 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 175

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 175 جلد چهارم ہیں ان سے جتنی بھی قربانی کراتے جاؤ وہ کرتے جائیں گے۔لیکن اگر یہ کہا جائے کہ تم حملہ آور ہو اور تم نے ہی فتح پانی ہے تو پھر ضروری ہے کہ اس حملہ کے لئے اور سپاہیوں کی طاقت کو بحال رکھنے کے لئے ان کا پیٹ بھرا رہے۔چونکہ جاپان حملہ آور تھا دفاعی جنگ نہیں کر رہا تھا کہ اس کے سپاہی اپنی حکومت کو مجبور سمجھتے۔پس جب حکومت نے سپاہیوں کا پیٹ نہ بھرا تو ان کے حوصلے قائم نہ رہ سکے۔پس یہ لڑائی عقلی طور پر لڑی گئی ہے۔اتحادیوں کے ڈاکٹروں نے ملیریا کا ایسا علاج نکالا کہ ان کے سپاہی ملیریا کے اثر سے بچ گئے۔اتحادی فوجی افسر ملیریا کی دوائی پر روٹی سے بھی زیادہ زور دیتے تھے۔مجھے ایک فوجی دوست ملنے آئے ان کا چہرہ زرد تھا۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے چہرے اس وجہ سے زرد ہیں کہ ہمیں ملیریا سے بچنے کے لئے روزانہ mcpacrinc کی گولیاں کھانی پڑتی ہیں جو چہرے کو زرد کر دیتی ہیں۔پھر جب کوئی فوجی چھٹی پر آنے لگتا ہے تو پہلے دو تین دن اسے دو دو تین تین بلکہ چار چار گولیاں کھلاتے ہیں اور جاتے ہوئے اسے جتنے دن کی چھٹی ہوتی ہے اس حساب سے گولیاں گن کر دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ باقاعدہ کھاتے رہنا۔اس طرح اتحادیوں نے اپنی فوجوں کو لڑوایا اور حکمت عملی سے فتح پالی۔پس جب تک ہم علمی طور پر دوسری اقوام کا مقابلہ نہ کریں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ابھی تمہارا دماغ اتنا وسیع نہیں کہ تمام مشکلات کو سمجھ سکو یا ان ضروریات کو سمجھ سکو جو آئندہ تمہارے راستہ میں بحیثیت ایک خاص قوم کے افراد ہونے کے پیش آئیں گی۔لیکن تم اتنا تو سمجھ سکتے ہو کہ دنیا میں علم والے آدمی کا مقابلہ جاہل نہیں کر سکتے۔تو پ کا مقابلہ لٹھ سے نہیں ہو سکتا۔لٹھ آدمی کا سر پھاڑ سکتی ہے لیکن توپ کا کام نہیں دے سکتی۔اور توپ کا کام، سائنس کا علم اور لوہے کا علم جاننے سے ہوتا ہے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ لوہا ڈھالا توپ بنائی اور توپ کے دہانے میں گولے کو ڈال کر چلا دیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ معمولی معمولی باتوں سے بہت بڑا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔توپ کی دور کی مار نالی کی صفائی پر ہوتی ہے۔اگر نالی کی صفائی کم ہوگی تو توپ کم مار کرے گی۔اور اگر نالی کی صفائی زیادہ ہوگی تو توپ