زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 174

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 174 جلد چهارم کی بٹالینیں پوری کی پوری تھیں اور ان میں جتنے افراد تھے سب کے سب چست اور چالاک تھے۔ان کو کسی قسم کی بیماری نہیں تھی اور وہ تازہ دم تھے یہی وجہ تھی کہ باوجود زیادہ قربانی کرنے کے جاپانیوں کو شکست ہوئی۔جہاں تک قربانی کا سوال ہے انہوں نے بہت قربانی کی لیکن سامانوں کی خرابی اور اپنی غفلت کی وجہ سے وہ جیت نہ سکے۔ایک احمدی جاپانیوں کی قید سے آزاد ہو کر آئے اور مجھے ملے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں جاپانی قید کر کے فلاں جزیرہ میں لے گئے۔وہاں ہمیں وہ ایک ہفتہ کے لئے صرف ایک جراب بھر چاول دیتے تھے اور ہمیں اس پر گزارہ کرنا پڑتا تھا۔میں نے کہا میں اسے ظلم نہیں سمجھ سکتا جب تک یہ نہ بتاؤ کہ وہ جاپانی سپاہی کو اس سے زیادہ دیتے تھے۔انہوں نے کہا جاپانیوں کو بھی اتنا ہی دیتے تھے۔میں نے کہا کہ جب وہ اپنوں کو بھی اتنا ہی دیتے تھے تو ہم کو بھی اتنا ملنا کس طرح ظلم کہلا سکتا ہے۔اب دیکھو وہ قوم سامان کے بغیر لڑائی کے لئے آمادہ تھی۔انہوں نے قربانی کی لیکن ایسی قربانی جو غلط تھی اور جس کے نتیجہ میں شکر لازمی تھی۔وہ قربانی کے لفظ پر خوش رہے۔اگر وہ ہوشیار ہوتے تو ایسی غفلت نہ برتتے۔لیکن انگریزوں نے اپنے سپاہیوں سے ایسی قربانی کا مطالبہ نہیں کیا اور یہی عقلمندی تھی۔کیونکہ لڑنے والے سپاہی کا اگر پیٹ نہ بھرا جائے تو اس کی طاقت کم ہو جاتی ہے۔ہاں اگر کوئی ایسا مشکل موقع پیش آ جائے کہ پاس کچھ نہ رہے تو ایسی حالت میں پھر مجبوری ہے۔جیسے صحابہ بعض دفعہ صرف کھجوروں کی گٹھلیوں پر گزارہ کرتے تھے۔ایک لڑائی میں صحابہ نے گھلیوں پر گزارہ کیا۔صحابہ کہتے ہیں کہ اس وجہ سے ہمیں سخت قبض ہو گئی۔جسے پاخانہ آتا تھا مینگنیوں کی شکل میں آتا تھا کیونکہ غذا میں کوئی رطوبت نہ تھی 1 پس جب ضرورت ہو تو پھر بے شک ہر قربانی ہونی چاہئے مگر بغیر ضرورت کے نہیں۔اسلام نے صرف دفاعی جنگوں کا حکم دیا ہے اور دفاعی جنگ میں قربانی کرنی ہی پڑتی ہے۔مگر جب یہ پروگرام ہو کہ تم نے حملہ کرنا اور دنیا کو فتح کرنا ہے تو پھر ایسی قربانی کا مطالبہ کرنا گویا قوم کی ہمت کو توڑنا اور اس کو تباہی کے گڑھے میں گرانا ہے۔جن کے ذہن میں یہ ہو کہ ہم پر دوسرے حملہ آور