زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 173

زریں ہدایات (برائے طلباء) 173 جلد چهارم بڑھائیں گے کہ ان کو دنیا کی ہر قوم کے مقابلہ میں پیش کیا جا سکے ، اگر وہ اول نمبر پر نہ آئیں تو دوم نمبر پر بھی نہ ہوں بلکہ اول کے برابر ہی ہوں اُس وقت تک ہم امید نہیں کر سکتے کہ قوم کا دوسرا حصہ جو قربانی کے لئے ہوتا ہے وہ قوم کے لئے مفید وجود ثابت ہو۔ایک تو بچی ہوتا ہے اور ایک سپاہی ہوتا ہے۔ان میں سے سپاہی جولڑنے والے ہیں اصل قربانی کا بکرا ہوتے ہیں۔تو بچی تو دور سے بیٹھے توپ چلاتے ہیں اصل فتح تو لڑنے والوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔جو عوام الناس ہیں اور جو علمی فنون کے لحاظ سے دوسرے درجہ پر ہوتے ہیں۔اصل قربانی ان کی ہوتی ہے۔لیکن وہ خواہ کتنے بہادر ہوں سامان کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔پس جو سامان انہیں مہیا کیا جائے اگر وہ اچھا نہ ہو تو وہ اچھا کام نہیں دے سکتے۔مثلاً بر ما میں لڑائی ہوئی اس کے متعلق جاپانیوں کا اعتراف ہے اور اتحادیوں کا بھی کہ یہ لڑائی در حقیقت ڈاکٹروں نے لڑکی ہے۔برما کے علاقہ میں مچھروں کی تعداد اتنی زیادہ تھی اور اس سے ملیر یا اتنی کثرت سے پھیلتا تھا کہ وہاں ہیں فیصدی آدمی فوجوں کے مرجاتے تھے۔جاپانیوں سے یہ غفلت ہوئی کہ انہوں نے پورے طور پر اس طرف توجہ نہیں کی اور خیال کیا کہ ہمارے آدمی قربانی کر رہے ہیں لیکن انگریز اُس وقت تک برما کے علاقہ میں داخل نہیں ہوئے جب تک انہوں نے مچھروں پر قبضہ نہیں کر لیا۔انہوں نے کہا کہ ہم اسی صورت میں وہاں جائیں گے کہ مچھر ہمارے ماتحت ہوں۔اس صورت میں نہیں جائیں گے کہ ہم مچھروں کے ماتحت اور ان کے رحم پر ہوں۔چنانچہ ان کی کوششوں کے نتیجہ میں بجائے میں فیصدی اموات کی شرح کے ایک فیصدی سے بھی کم ہو گئی۔یہی وجہ تھی ان کے جیتنے کی۔اس کے مقابلہ میں جاپانیوں سے غفلت ہوئی اور انہوں نے ملیریا کا خیال نہ کیا۔جس کی وجہ سے ان کی فوج کا کافی حصہ مچھروں کا شکار ہو گیا اور ان کی بٹالینوں میں وہ طاقت نہ رہی جو جنگ کے زمانہ سے پہلے تھی۔مثلاً تیرہ سو آدمی بٹالین ہونے چاہئیں تو ان کی بجائے چھ سات سو رہ گئے اور ان میں سے بھی اکثر ملیریا کے مارے ہوئے تھے اور بالکل کمزور اور نحیف۔اس کے مقابلہ میں انگریز اور امریکن فوجوں