زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 169

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 169 جلد چهارم سے اس رنگ میں واقف نہ ہونا جس رنگ میں علماء کو واقفیت حاصل ہوتی ہے اس بات کا ثبوت نہیں کہ باقی دنیا کو بھی علوم حاصل کرنے کی ضرورت نہیں۔میری ہی مثال لے لو۔ایک پرائمری فیل آدمی کا ساری دنیا کے مقابلہ میں کھڑا ہو جانا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ پرائمری فیل ایسا کر سکتا ہے۔بلکہ یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ چونکہ یہ کام اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے سوا ہو ہی نہیں سکتا اس لئے یہ انہی تائید اور نصرت سے ہوا ہے۔اگر عام طور پر یہ کام تعلیم یافتہ آدمیوں کے سوا بھی ہو سکتا تو یہ معجزہ کس بات کا ہوتا۔معجزہ کے تو معنے ہی یہی ہیں کہ انسان اسے نہیں کر سکتا۔اور جب یہ بات ہے تو معلوم ہوا کہ علوم میں ترقی حاصل کرنے کے بغیر کوئی قوم دنیا میں ترقی نہیں کر سکتی۔انگریزی میں ایک مقولہ ہے گو وہ اور رنگ میں کہا گیا ہے لیکن بہر حال اس کے ساتھ ملتا جلتا مضمون ہے کہتے ہیں استثناء قانون کو ثابت کرتا ہے کمزور نہیں بناتا۔پس یہ استثنائی چیزیں ہوتی ہیں ورنہ باقی سب کو اس قانون کا پابند ہونا پڑتا ہے جو خدا تعالیٰ نے بنی نوع انسان میں جاری کیا ہے۔یہ ویسی ہی بات ہے جیسے عام طور پر طالب علموں میں بحث ہوتی ہے کہ شہری زندگی اچھی ہے یا گاؤں کی زندگی اچھی ہے۔ہم بھی بچپن میں اس قسم کے ڈیٹس (Debates) میں شامل ہوا کرتے تھے۔لیکن در حقیقت یہ مضمون ہے ہی باطل۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی کہے کہ ماں اچھی ہے یا بیٹا۔ماں اور بیٹے کی تو آپس میں کوئی نسبت ہی نہیں ہوتی۔دنیا میں جب کبھی ترقی شروع ہوگی تو منزل کی حالت میں ترقی کی بنیاد رکھی جائے گی۔آخر جب قوم میں ہیجان پیدا ہو گا تو لازمی بات ہے کہ کمزوری کی حالت سے قوم ترقی کرے گی۔جس کے نتیجہ میں اس کا تمدن بڑھتا چلا جائے گا اور تمدن بڑھنے اور انڈسٹری کے وسیع ہونے کے نتیجہ میں شہر پیدا ہوتے ہیں اور شہروں کو قائم رکھنے کے لئے اور ان کے لئے خوراک مہیا کرنے کے لئے ارد گرد گاؤں اور قصبات بنائے جاتے ہیں۔گویا شہر گاؤں کی اولاد ہیں اور ماں اور بیٹے کا تقابل دنیا میں کوئی نہیں کیا کرتا۔اسی طرح اُمیت سے بے شک علم پیدا ہوتا ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ امیت کو قائم رکھنا چاہئے