زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 167

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 167 جلد چهارم افراد اور قوم کے دلوں میں گدگدیاں پیدا کی ہیں اور ان کے اندر ایک نئی خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔پس یہ چیز گو پرانی ہے مگر کبھی بھی نئے جامے کے بغیر دنیا کے سامنے نہیں آئی۔پس ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ جو چیز ہمیشہ ہی نئے جامے کے ساتھ اپنی دلچپسی کو قائم رکھے ہوئے ہے وہ جامہ کس رنگ کا ہے۔میں نے بتایا ہے کہ طالب علم ہر سال ہی مدرسوں سے امتحان دینے کے لئے جاتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے اس کی جدت اس وجہ سے قائم ہے کہ اس کا اثر ملک کے مستقبل پر پڑتا ہے۔پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہمارے سکول میں سے جانے والے لڑکے قوم کے آئندہ مستقبل پر کیا اثر ڈالتے ہیں۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سابق میں وہ اثر اچھا نہیں رہا۔نہ قابلیت کے لحاظ سے اور نہ کامیاب ہونے والوں کی تعداد کے لحاظ سے۔جہاں غیر قوموں کے سکولوں میں بعض جگہ پر سو فیصدی لڑکے پاس ہوئے، جہاں غیر قوموں کے سکولوں میں بعض جگہ سو فیصدی لڑکے فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئے وہاں ہمارے طلباء 60، 70 فیصدی کے اندر چکر لگاتے اور بالعموم تھرڈ ڈویژن میں پاس ہوتے ہیں۔یہ صاف بات ہے کہ اس قسم کا مواد جب کسی قوم کو ملے گا تو وہ کامیاب طور پر کام نہیں کر سکے گی۔کالجوں کی تعلیم سکولوں کی تعلیم سے زیادہ مشکل ہوتی ہے اور اس میں زیادہ عقل اور زیادہ محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔کیونکہ وہ تعلیم صرف تعلیم کے لحاظ سے ہی اوپر کے درجہ کی نہیں ہوتی بلکہ قسم کے لحاظ سے بھی جدا گانہ ہوتی ہے۔اس لئے جو طالب علم اچھی قابلیت لے کر کالج میں نہیں جاتے جب ان کی عقل پر بوجھ پڑتا ہے تو وہ پورے طور پر اس کے ساتھ تعاون نہیں کر سکتے اور اپنے علم اور اسا تذہ کے ساتھ دوڑ نہیں سکتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اساتذہ اور کتا بیں آگے بھاگتی چلی جاتی ہیں اور وہ پیچھے رہ جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ استادوں اور کتابوں کی آوازیں جو کچھ کچھ ان کے دلوں میں علم کی محبت پیدا کر رہی ہوتی ہیں مدہم ہوتی چلی جاتی ہیں اور آخر وہ ان آوازوں کو سننے سے ہی محروم رہ جاتے ہیں۔پس ضرورت ہے کہ ہمارے سکول کے معیار کو بلند کیا جائے۔مجھے گزشتہ سال مختلف رنگوں میں یہ بات سنائی گئی ہے کہ ہمارے سکول کا معیار بلند ہو رہا