زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 166
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 166 جلد چهارم احمدی نوجوان ہر علم میں دوسروں سے جلد سے جلد بڑھنے کی انتہائی کوشش کریں۔خدمت دین کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں 27 فروری 1946ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی کے طلباء سے جو خطاب فرمایا وہ حسب ذیل ہے۔تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- سکولوں میں سے ہمیشہ ہی طالب علم امتحانوں کے لئے جاتے ہیں۔اور بظاہر یہ ایک ایسی چیز ہے جسے اپنی جدت کو کھو دینا چاہئے لیکن چونکہ اس فعل کا نتیجہ آئندہ ملک اور قوم پر اثر انداز ہوتا ہے اس لئے باوجود اس کے کہ یہ فعل متواتر ہر سال ہوتا ہے پھر بھی اپنی جدت کو کھوتا نہیں۔جس طرح بچے پیدا ہوتے ہی چلے آئے ہیں اور جب سے بنی نوع انسان نے ہوش سنبھالا ہے وہ اپنے اور دوسرے گھروں میں بچوں کی پیدائش دیکھتے چلے آئے ہیں مگر باوجود اس کے بچوں کی پیدائش نے اپنی جدت کو کھویا نہیں بلکہ ہر گھر اور ہر محلہ اور ہر شہر کے افراد یا ہر ملک کے افراد بلکہ ساری دنیا کے افراد بچوں کی پیدائش میں ویسی ہی دلچسپی لیتے رہتے ہیں جیسا کہ آدم کے زمانہ کے لوگوں نے لی ہوگی۔آدم کے زمانہ کے لوگوں کی دلچپسی گو ہمارے سامنے نہیں مگر بنی نوع انسان کی ہزاروں سال تک کی تاریخ ہمارے سامنے آچکی ہے اور تاریخ بتاتی ہے کہ بچوں کی پیدائش نے ہمیشہ ہی