زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 164
زریں ہدایات (برائے طلباء) 164 جلد چهارم ہیں۔اور پھر دس سال میں تین چار ہزار طلباء ہو سکتے ہیں۔اس طرح یہ اتنا وسیع حلقہ بن جاتا ہے کہ اگر وہ معمولی کوشش بھی کریں تو تین چار لاکھ روپیہ بھی سال میں جمع کر سکتے ہیں۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ قادیان کی رہائش سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ ایک مرض ہے کہ کالج کے طلباء عام لوگوں سے الگ رہتے ہیں۔جہاں تک آوارگی کا تعلق ہے انہیں الگ رہنا چاہئے۔مگر جہاں تک قادیان کا تعلق ہے اگر طلباء خلافت سے وابستگی اختیار نہ کریں گے ، مقامی اداروں اور نظارتوں سے تعلق نہ رکھیں گے تو ان میں وہ روح نہ پیدا ہو گی جو احمدیت پیدا کرنا چاہتی ہے۔اگر وہ سلسلہ کی تحریکوں سے الگ رہیں گے تو ان میں مذہب سے دلچسپی اور مذہب کے لئے فدا کاری نہ پیدا ہوگی۔پس کوشش کرنی چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ مرکزی اداروں سے تعلق رکھیں اور وقتا فوقتا ان میں کام کریں۔اب وقت نہیں ہے اس لئے میں دعا کر کے جاتا ہوں مگر ایک لطیفہ سنا دیتا ہوں۔یہ سامنے کی کوٹھی جنہوں نے اپنے رہنے کے لئے بنوائی تھی اس میں اب ہوٹل کے جو سپر نٹنڈنٹ رہیں گے وہ ان کے ہم نام، ہم قوم، ہم ڈگری اور ہم علاقہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے پہلا آدم آیا تو اسے شیطان نے جنت سے نکالا۔مگر دوسرا آدم اس لئے آیا ہے کہ جنت میں داخل کرے 2 اس کوٹھی میں پہلے رہنے والے محمد علی نام کے ایم۔اے ڈگری والے، آرائیں قوم کے اور وطن کے لحاظ سے جالندھری تھے۔ان کے ساتھیوں نے خلافت کے اختلاف کے وقت کہا تھا دیکھ لینا دس سال تک یہاں عیسائیوں کا قبضہ ہو گا۔خدا تعالیٰ کی نکتہ نوازی دیکھو دس سال بعد نہیں تھیں سال بعد ایک دوسرا شخص اسی نام، ای ڈگری، اسی قوم اور اسی ضلع کا آج ہمارے سامنے یہ کہہ رہا ہے کہ اب میں اس کوٹھی میں رہوں گا اور احمدیت کی روایات کو قائم کرنے کی کوشش کروں گا۔جو کچھ پہلےمحمد علی ایم۔اے آرائیں جالندھری نے کہا تھا بالکل غلط ہے۔یہ جگہ خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے ہی بنائی اور یہاں اسلام کے خادم ہی رہیں گے اور میں محمد علی ایم۔اے آرائیں جالندھری اپنے طلباء سمیت پوری کوشش کروں گا کہ