زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 161
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 161 جلد چهارم تھے مگر خدا تعالیٰ نے ان کو ایسا ایمان اور ایسا جوش بخشا کہ کوئی بڑی سے بڑی روک بھی انہیں کچھ نہ نظر آتی تھی۔آج کے نوجوان اور آج کی جماعت اگر ویسا ہی ایمان پیدا کرے تو دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر سکتی ہے۔جو کام ایک پونڈ بارود کر سکتا ہے ایک ٹن بارود اس سے بہت زیادہ کام کر سکتا ہے۔اگر اُس وقت جماعت کی حیثیت پونڈ کی تھی تو آج خدا کے فضل سے ٹن کی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ اُس وقت جماعت کے لوگ بارود تھے کیا آج بھی وہ بارود ہیں یا ریت کا ڈھیر؟ اگر بارود ہیں تو یقینا آج اُس وقت کی نسبت بہت زیادہ کام کر سکتے ہیں۔لیکن اگر ریت ہیں تو اُس وقت کے کام کا سواں حصہ بھی نہیں کر سکتے۔پس میں نوجوانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اپنے اندر اخلاص پیدا کریں۔مجھے اُس وقت کے ایک طالب علم کا واقعہ یاد آ گیا۔اب وہ دارجلنگ میں تاجر ہے۔اُس وقت یہاں سوال پیدا ہوا کہ جماعت کیا چاہتی ہے؟ آیا خلافت قائم رہے یا نہ؟ اس کے لئے لوگوں کی رائے نوٹ کرنے کا بعض اصحاب نے انتظام کیا۔بعض سکول کے لڑکوں نے بھی کہا کہ رائے نوٹ کرنے والے کاغذ ہمیں بھی دو ہم بھی دستخط کرائیں گے۔ان سے کہا گیا کہ تمہارے ہیڈ ماسٹر صاحب خلاف ہیں تمہیں تکلیف نہ پہنچے۔اُس وقت مولوی صدر الدین صاحب ہیڈ ماسٹر تھے۔مگر لڑکوں نے کہا ہمیں نقصان کی پرواہ نہیں۔اس طرح اس لڑکے نے بھی کاغذ لے لیا اور جو مہمان آتے ان کے سامنے پیش کرتا کہ اپنی رائے لکھ دیجئے۔اسے دیکھ کر ہیڈ ماسٹر آیا اور اس نے اس کے ہاتھ سے زبردستی کاغذ چھین کر پھاڑ دیا۔اور کہا جاؤ ایسا نہ کرو۔یہ میر احکم ہے۔مگر اس نے پھر کاغذ لیا اور پنسل سے وہی عبارت اس پر لکھ کر جو پہلے کاغذ پر لکھی تھی لوگوں کے سامنے پیش کرنے لگ گیا۔پھر ہیڈ ماسٹر آیا اور اس نے کاغذ چھین کر پھاڑ ڈالا اور دستخط کرانے سے منع کیا۔اس پر اس نے کہا میں آپ کے ادب کی وجہ سے اور تو کچھ نہیں کہتا مگر یہ دینی کام ہے میں اسے چھوڑ نہیں سکتا۔اس کا والد بھی مخالف تھا۔اس نے اسے خرچ دینا بھی بند کر دیا مگر اس نے کوئی پرواہ نہ کی اور آج اچھا تاجر ہے۔