زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 10
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 10 جلد چهارم سر جافرے ہے۔درد صاحب کی معرفت ان سے مل کر بھی تعارف پیدا کر لیں۔اسی طرح سر میکلگن (Sir Maclagan) ہے۔آخر الذکر ہمارے خاندان کے خاص طور پر واقف ہیں۔(8) اپنے حلقہ میں تبلیغ کا کام کرتے رہیں اور اچھے نو جوانوں کو انگریز ہوں یا تبلیغ اسلام ہندوستانی مسجد میں لے جانے کی کوشش کریں کہ اس سے دل کو نور حاصل ہوتا ہے۔(9) درد صاحب یا جو مبلغ ہو وہ وہاں کا امام اور امام مسجد لندن کی اطاعت امیر ہے۔اس کی پوری فرمانبرداری کرنی چاہئے اور اس سے مشورہ لیتے رہنا چاہئے۔(10) وہاں عورتوں کی وبا کثرت سے ہے۔اس عورتوں کے متعلق ہدایت سے بچنا تو مشکل ہے کیونکہ وہ ہر مجلس میں موجود ہوتی ہیں لیکن جوان عورتوں سے الگ ملنے یا ان کے ساتھ سیر وغیرہ پر جانے سے احتراز کرنا چاہئے۔کھانے کے متعلق (11) کھانے میں حلال وحرام کا خاص خیال رکھیں۔اور شکل میں داڑھی کا۔راستہ کے متعلق یا درکھیں کہ:۔جہاز کا سفر (1) جہاز میں متلی سے بچنے کے لئے اچھا ذریعہ یہ ہے کہ اول تو کچھ نہ کچھ کھاتا ضرور رہے۔دوم کھلی ہوا میں رہے۔یعنی کمرہ کی جگہ ڈک (Deck) پر وقت گزارے۔سوم جس وقت زیادہ بچکولے ہوں اُس وقت ذرا لیٹ جائے۔حلال گوشت (2) جہاز میں جاتے ہی سٹیورڈ (steward) سے یعنی جہاز کے خادم سے کہہ دیں کہ آپ خنزیر یا بغیر حلال کا گوشت نہیں کھاتے۔اس کا وہ خیال رکھے اور اس چیز کے متعلق آپ کو بتا دے۔بلکہ چاہئے کہ میاں بشیر احمد صاحب تھامس لک کی معرفت پی اینڈ او کمپنی والوں کو فوراً اطلاع کرا دیں تا کہ کوئی تکلیف نہ ہو۔(3) تھامس تک کے آدمی ہر جگہ بندرگاہ میں ملتے ہیں ٹھگوں کے متعلق احتیاط ان پر اعتبار کریں خود کوئی انتظام نہ کریں۔یورپ میں