زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 149
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 149 جلد چهارم کھیلوں کی بجائے انہوں نے جو دوسری کھیلیں اختیار کی ہیں ان کا صحت پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے اور روپیہ بھی کم خرچ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ دوسری کھیلوں کا رواج اب دن بدن بڑھ رہا ہے۔انگریزی ممالک میں شاید اس وجہ سے کہ وہاں کہر زیادہ ہوتی ہے اس قسم کی کھیلوں کی ضرورت سمجھی جاتی ہے جو دوڑ دھوپ والی ہوں لیکن وسطی یورپ یا جنوبی یورپ میں ان کا زیادہ رواج نہیں۔میں یورپین کھیلوں میں سب سے کم مصرفٹ بال سمجھتا ہوں کیونکہ اس سے سینہ پر بوجھ نہیں پڑتا بلکہ سینہ چوڑا اور فراخ رہتا ہے۔ہاکی میں چونکہ دونوں ہاتھ بند ہوتے ہیں اُدھر سانس سینہ میں پھولتا نہیں اس لئے ہاکی کے نتیجہ میں اکثر سینہ پر ایسا بوجھ پڑتا ہے کہ وہ کمزور ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ ہاکی کو مصر سمجھتا رہا ہوں۔مگر اب چار پانچ سال ہوئے انگلستان میں ایک کمیشن مقرر کیا گیا تھا جس نے تحقیق کے بعد یہ رپورٹ کی ہے کہ ہا کی پلیئرز میں سل کا مادہ نسبتا زیادہ دیکھا گیا ہے۔بہر حال یہ ایک ابتدائی کام ہے اور جیسا کہ بتایا گیا ہے ایسے لڑکے کالج میں نہیں آئے جو بڑے بڑے نمبروں پر پاس ہوئے ہوں۔میں سمجھتا ہوں اگر ہمارے پروفیسر کوشش کریں اور والنزعتِ غَرْقًا 7 کے ماتحت اپنے فرض کی ادائیگی میں پوری طرح منہمک ہو جائیں اور وہ سمجھ لیں کہ تعلیمی طور پر تربیت تعلیم سے باہر نہیں بلکہ تعلیم کے ساتھ ہی شامل ہے۔ہم نے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں اور ہمارا مقصد یہ ہے کہ جولڑ کے ہمارے ہاں تعلیم پائیں وہ تعلیم میں دوسروں سے اعلیٰ ہوں ، وہ تربیت میں دوسروں سے اعلیٰ ہوں ، وہ اخلاق فاضلہ میں دوسروں سے اعلیٰ ہوں تو یقیناً وہ ان ان گھڑے جواہرات کو قیمتی ہیروں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اخلاص اور تقویٰ اور خدا تعالیٰ کا خوف اپنے دلوں میں پیدا کریں اور لڑکوں کی تعلیمی حالت بھی بہتر بنائیں ، ان کی اخلاقی حالت بھی بہتر بنائیں اور ان کی مذہبی حالت بھی بہتر بنائیں۔میں اس موقع پر اساتذہ اور طلبا دونوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ہمارا مقصد دوسرے کالجوں سے زیادہ بلند اور اعلیٰ ہے۔کئی باتیں اس قسم کی ہیں جو دوسرے کالجوں میں جائز۔