زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 144
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 144 جلد چهارم کرنے کی کوشش کرے یا غلیلوں سے دشمن کو شکست دینے کا ارادہ کرے۔ہم کو بھی جب دیکھنے والا دیکھتا ہے تو کہتا ہے یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔وہ عظیم الشان قلعے جو کنکریٹ کے بنے ہوئے ہیں، جن کی تعمیر میں بڑے بڑے قیمتی مصالح صرف ہوئے ہیں، جن کو ایلیون پونڈر گنز (Eleven Pounder Guns) سیون ٹی فائیو ملی میٹر گنز (Meter Guns۔75) بھی بمشکل سر کر سکتی ہیں ان قلعوں کو وہ ان پتھروں یا غلیلوں سے کس طرح تو ڈسکیں گے۔مگر جو خدا کی طرف سے کام ہوتے ہیں وہ اسی طرح ہوتے ہیں۔پہلے دنیا اُن کو دیکھتی ہے اور کہتی ہے ایسا ہونا ناممکن ہے۔مگر پھر ایک دن ایسا آتا ہے جب وہی دنیا کہتی ہے ا اس کام نے تو ہونا ہی تھا کیونکہ حالات ہی ایسے پیدا ہو چکے تھے۔جب محمد رسول اللہ ہے آئے تو دنیا نے اُس وقت یہی کہا کہ ان دعووں کا پورا ہونا ناممکن ہے۔انہوں نے آپ کو مجنون کہا، انہوں نے آپ کے متعلق یہ کہا کہ اس شخص پر نَعُوذُ باللہ ہمارے بتوں کی لعنت پڑ گئی ہے۔مگر آج یورپ کے مصنفوں کی کتابیں پڑھ کر دیکھ لو وہ کہتے ہیں اگر کی مسلمانوں کے مقابلہ میں قیصر کی حکومت کو شکست ہوگئی ، اگر مسلمانوں کے مقابلہ میں کسری کی حکومت کو شکست ہوگئی ، اگر مسلمانوں کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی قوم نہیں ٹھہر سکی تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں وہ زمانہ ہی ایسا تھا اور اُس وقت حالات ہی ایسے پیدا ہو چکے تھے جو محمد ﷺ کی تائید میں تھے۔کیا یہ عجیب بات نہیں کہ محمد ﷺ کے زمانہ میں تو آپ کے دعوی کو پاگل پن اور جنون سمجھا جاتا تھا مگر آج یہ کہا جاتا ہے کہ اگر آپ کے دعوئی کو لوگوں نے تسلیم کر لیا تو اس میں کون سی عجب بات ہے۔زمانہ کے حالات اس دعویٰ کے مطابق تھے اور لوگوں کی طبائع آپ کے عقائد کو تسلیم کرنے کیلئے پہلے ہی تیار ہو چکی تھیں۔یہی احمدیت کا حال ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعویٰ کیا لوگ کہتے تھے کہ ناممکن ہے کہ یہ شخص دنیا پر فتح حاصل کر سکے، یہ اپنی آئی آپ مر جائے گا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تک نے یہ کہہ دیا کہ میں نے ہی اس شخص کو بڑھایا تھا اور اب میں ہی اس شخص کو گراؤں گا 3 مگر آپ کے سلسلہ کو دن بدن ترقی ہوتی چلی گئی یہاں