زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 143

زریں ہدایات (برائے طلباء) 143 جلد چهارم غلط بیان کئے تھے۔اسی طرح علم حساب کی جب تحقیق ہوتی ہے حساب دان یہ کہتے ہیں کہ فلاں حساب دان نے یہ غلطی کی تھی اور فلاں حساب دان نے وہ غلطی کی تھی۔لیکن دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی مبعوث ہوا ہو اور اُس نے یہ کہا ہو کہ فلاں نبی نے غلط بات کھی تھی۔انبیائے سابقین کی تعلیمیں بے تک منسوخ ہوتی رہی ہیں مگر منسوخ ہونے کے یہ کی معنی نہیں تھے کہ وہ تعلیمیں غلط تھیں۔ان تعلیموں کے منسوخ ہونے کا صرف اتنا مفہوم ہے کہ وہ تعلیمیں اُس زمانہ کے لئے تھیں بعد کے زمانہ کے لئے نہیں تھیں۔پس ہمیں ذاتی طور پر اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم سائنس اور فلسفہ اور حساب اور دوسرے علوم کے ذریعہ اسلام کی صداقت ثابت کریں۔اسلام ان سب سے بالا ہے۔لیکن چونکہ دنیا میں کچھ لوگ ان وہموں میں مبتلا ہیں اور وہ ان علوم کے رعب کی وجہ سے اسلام کی تائید میں اپنی آواز بلند نہیں کر سکتے اس لئے اُن کی ہدایت اور راہ نمائی کیلئے ضروری ہے کہ ہم ایسے مرکز کھولیں اور اُن کی زبان میں اُن سے باتیں کرنے کی کوشش کریں اور انہیں بتائیں کہ علوم جدیدہ کی نئی تحقیقا تیں بھی اسلام کی مؤید ہیں۔اسلام کی تردید کرنے والی اور اس کو غلط ثابت کرنے والی نہیں ہیں۔یہ کام ہے جو ہمارے سامنے ہے۔چونکہ یہ نیا کام ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہمیں اس کام میں دقتیں پیش آئیں۔لیکن ایک وقت آئے گا جب آہستہ آہستہ ان علوم کے ذریعہ بھی اسلام کی صداقت دنیا کے کونہ کو نہ میں پھیل جائے گی اور لوگ محسوس کریں گے کہ علوم خواہ کس قدر بڑھ جائیں، سائنس خواہ کس قدر ترقی کر جائے اسلام کے کسی مسئلہ پر زد نہیں پڑ سکتی۔دنیا میں ہمیشہ دشمن کے قلعہ پر پہلے گولہ باری کی جاتی ہے اور یہ گولہ باری فوج کا بہت بڑا کام ہوتا ہے لیکن جب گولہ باری کرتے کرتے قلعہ میں سوراخ ہو جاتا ہے تو پھر فوج اس سرعت سے بڑھتی ہے کہ دشمن کے لئے ہتھیار ڈال دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا۔ہم نے بھی کفر کے مقابلہ میں ایک بنیاد رکھی ہے اور ہماری مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے پرانے زمانہ کی منجنیقیں اپنے ہاتھ میں لے کر کوئی شخص موجودہ زمانہ کے مضبوط ترین قلعوں کو سر