زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 142
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 142 جلد چهارم وجود کو ایسا ثابت کیا کہ دنیا اُن دلائل کا انکار نہ کرسکی۔انہوں نے کہا کہ ہم خدا کی طرف سے کھڑے ہوئے ہیں اور خدا کی ہستی کا ثبوت یہ ہے کہ وہ ہمیں کامیاب کرے گا۔چنانچہ دنیا نے اُن کی مخالفت کی مگر خدا نے اُن کو کامیاب کر کے دکھا دیا اور اس طرح ثابت کر دیا کہ اس عالم کا حقیقتاً ایک قادر اور مقتدر خدا ہے جو اپنے پیاروں سے کلام کرتا اور مخالف حالات میں اُن کو کامیاب کرتا ہے۔پس خدا کے وجود پر انبیاء کی متفقہ گواہی ایک قطعی اور یقینی شہادت ہے جو اُس کی ہستی کو ثابت کر رہی ہے۔آج تک کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا جس نے اپنے سے پہلے آنے والے نبی کی تردید کی ہو۔ہر سائنسدان پہلے سائنسدان کی تردید کرتا ہے، ہر فلاسفر پہلے فلاسفر کی تردید کرتا ہے، ہر حساب دان پہلے حساب دان کی تردید کرتا ہے مگر انبیاء کا وجود ایسا ہے کہ ہر نبی جو دنیا میں آتا ہے وہ اپنے سے پہلے آنے والے انبیاء کی تصدیق ہی کرتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ وہ اُن کی تردید کرے، وہ اُن کی لائی ہوئی صداقتوں کو باطل ثابت کرے۔قرآن کریم نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں پیش کیا تھا جسے عیسائیوں نے غلطی سے نہ سمجھا اور اعتراض کر دیا کہ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ 2 یعنی دنیا میں ایک ہی سلسلہ ہے جس میں ہر آنے والا اپنے سے پہلے کی تصدیق کرتا ہے۔اس کی تکذیب اور تردید نہیں کرتا۔آدم سے لے کر حضرت محمد مصطفی ماہ تک اور محمد مے سے لے کر مسیح موعود تک ایک نبی بھی ایسا نہیں دکھایا جا سکتا جس نے پہلے انبیاء اور اُن کی لائی ہوئی صداقتوں کا انکار کیا ہو بلکہ وہ ہمیشہ پہلوں کی تصدیق کرتا ہے۔لیکن دوسرے تمام علوم چونکہ ظنی ہیں ، وہمی اور خیالی ہیں اس لئے ہر نئی سائنس پہلی سائنس کی تردید کرتی ہے اور ہر نیا فلسفہ پہلے فلسفہ کی تردید کرتا ہے، ہر نیا حساب پہلے حساب کی تردید کرتا ہے۔بے شک انبیاء کی تعلیمیں منسوخ بھی ہوتی ہیں مگر منسوخ ہونا اور چیز ہے اور ان تعلیموں کو غلط قرار دینا اور چیز ہے۔فلسفہ والے کہتے ہیں کہ فلاں زمانہ میں جو فلسفی گزرا تھا اُس کا فلسفہ غلط تھا کیونکہ نئی تحقیقات نے اس کو باطل ثابت کر دیا ہے۔سائنس کی جب نئی تحقیقات ہوتی ہے تو سائنسدان کہتے ہیں پہلے سائنسدانوں نے غلطی کی، اُنہوں نے فلاں فلاں مسائل بالکل صل الله