زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 132

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 132 جلد چهارم بڑوں کی باتیں نہ مانتے تھے بلکہ یہ کہ جب ایک دفعہ سن لیتے کہ دین کی خدمت کے لئے فلاں کام کرنا چاہئے تو پھر دوبارہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوتی تھی کہ وہ کام کس طرح کریں۔آزادی کی روح اور دلیری سے کام کرتے تھے اور کام کرنا جانتے تھے۔“ آخر میں فرمایا:۔میں تم سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ خیال اپنے دلوں سے نکال دو کہ ہم بچے ہیں ہم اس عمر میں کیا کر سکتے ہیں۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جب یہ سنتے کہ اللہ تعالیٰ اسلام اور احمدیت کو ترقی دے گا تو ہم سمجھتے کہ یہ ترقی ہمارے ذریعہ ہی ہوگی اور پھر کام کرنے لگ جاتے اور خدا تعالیٰ اس میں برکت دیتا۔تم یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی بڑا کام نہیں کر سکتے۔اس عمر میں سب سے ضروری چیز زبان سیکھنا ہے۔تمہیں اردو سیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اس کے بعد مضامین لکھنے خود بخود آ جائیں گے۔پھر تمہیں یہ یقین رکھنا چاہئے کہ بہت بڑے مقصد کے لئے تم پیدا کئے گئے ہو۔تمہارے اندر اسلام اور احمدیت کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ایک آگ سی لگی ہونی چاہئے۔یہ آگ ہر عمر کے بچہ کے دل میں پیدا ہوسکتی اور اس سے بڑے بڑے کام کر سکتی ہے کیونکہ جب یہ آگ پیدا ہو جائے تو کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی۔پس اسلام اور احمدیت کی محبت اپنے دلوں میں پیدا کرو اور اسلام کو دنیا میں غالب کرنے کے مقصد کو اپنے سامنے رکھو۔“ الفضل 26 جولائی 1941 ء )