زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 128 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 128

امور - 128 جلد چهارم زریں ہدایات (برائے طلباء ) پھر طلباء کی اخلاقی تربیت کی طرف توجہ کی جائے۔مثلاً انہیں بتایا جائے کہ بدظنی اور نگرانی میں کیا فرق ہے اور اس کے نہ جانے سے کیا نقصانات ہوتے ہیں۔اس قسم کے پر لیکچر کرائے جائیں۔اسی طرح لڑکوں کو اسلامی تاریخ سے آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے، اس کے نہ جاننے کی وجہ سے مسلمانوں کی ہمتیں ٹوٹ گئیں اور حو صلے پست ہو گئے ہیں۔مجھے ایک دفعہ خیال آیا تھا کہ ایسے چارٹ بنائے جائیں جن میں دکھایا جائے کہ پہلی صدی میں کہاں کہاں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگئی تھی ، دوسری میں کہاں کہاں، تیسری صدی میں اسے کس قدر وسعت حاصل ہوئی۔حتی کہ چودھویں صدی تک ساری کیفیت دکھائی جائے۔اس طرح ہر طالب علم کے سینے پر ایک ایسا زخم لگے گا جو اسلام کی فتح سے ہی درست ہو گا۔آج مسلمان سب کچھ بھول چکے ہیں۔اگر کچھ یا د رہا تو یورپ کا بیان کردہ اور وہ بھی غلط رنگ میں۔غیر مبایعین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ پیش کیا کرتے ہیں کہ ایک عام آدمی نے بھری مجلس میں ان پر اعتراض کیا تھا۔حالانکہ یورپ والوں نے اسے غلط رنگ دے کر اپنے ڈھنگ کا بنالیا ہے اور غیر مبایعین نے نادانی سے ان کی نقل کرنی شروع کر دی ہے۔بے شک ہمارے آباء کی اس قسم کی خوبیاں بھی ہیں جن کو یورپ نے صحیح طور پر سمجھا مگر بسا اوقات وہ ایسی باتیں پیش کرتے ہیں جو خو بیاں نہیں اور ہمارے آباء میں نہیں تھیں۔ہم جب اسلامی تاریخ لکھیں گے تو اور رنگ میں لکھیں گے اور ان واقعات کو صحیح رنگ میں پیش کریں گے اور ان کی غلطیاں ظاہر کر دیں گے۔غرض اسلامی تاریخ کے متعلق لیکچر ہوں اور اس قسم کے نقشے بنائے جائیں۔میں مرکزی دفتر کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ طلباء کے ہر کمرہ میں اس قسم کے نقشے ہوں جن سے ہمارے لڑکے یہ سمجھ سکیں کہ مسلمان پہلے کیا تھے اور آج کیا ہیں۔جب تک ہم اپنے بچوں کے سینوں میں ایک آگ نہ بھر دیں گے اور جب تک ان کے دل ایسے زخمی نہ ہو جائیں گے جو رستے رہیں ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔اسلام کی ترقی چاہتی ہے کہ ایسی تاثیر پیدا ہو جو پرانی یاد کو تازہ رکھے اور پل بھر چین نہ لینے دے۔جب تک یہ نہیں ہوتا ہماری