زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 118
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 118 جلد چهارم ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے تیار ہوں تو وہ ایک انجمن بنا ئیں جو اس بورڈنگ کی ترقی کے لئے کوشاں ہو۔جس طرح ہم بڑوں سے یہ عہد لیتے ہیں کہ ہر شخص سال میں کم از کم ایک شخص کو احمدی بنائے اسی طرح وہ عہد لیں کہ سال میں کم از کم اتنے طالب علم ہم بورڈنگ میں داخل کرائیں گے۔اس کے لئے ضروری نہیں کہ وہ طالب علم احمد ی ہی ہوں غیر احمدی بھی ہو سکتے ہیں۔غیر احمدی طالب علم جب اس نظام کے ماتحت رہیں گے جو یہاں ہے اور جس میں اپنے اوپر آپ پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، تسلیم اور اطاعت کا مادہ پیدا کیا جاتا ہے، دین کے لئے قربانی کرنے کی روح پیدا کی جاتی ہے تو خواہ وہ غیر احمدی ہی چلے جائیں وہ اس نظام کو قائم کریں گے جو لوگوں کو اسلام کی طرف لانے والا ہو گا۔اور جس کا نہ ہونا لوگوں کو احمدیت کی طرف آنے سے روکے ہوئے ہے۔ہمارے ملک میں اپنی مرضی سے اطاعت کا جوا اٹھانے کی چونکہ لوگوں میں عادت نہیں ہے اس لئے وہ احمدیت کی طرف نہیں آتے اور ڈنڈے سے اطاعت اختیار کرتے ہیں حالانکہ اصل غلامی یہی ہے۔اپنی مرضی سے ایک نظام کے ماتحت رہنا غلامی نہیں ہے بلکہ یہی تہذیب ہے۔اور جولوگ ایک نظام کے ماتحت اپنی مرضی سے رہتے ہیں انہیں مہذب کہا جاتا ہے۔اور جن کو ڈنڈے کے ذریعہ کسی نظام کے ماتحت رکھا جاتا ہے انہیں غیر مہذب قرار دیا جاتا ہے۔ہندوستان کے لوگ اپنے عمل سے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ جبر کی حکومت ماننے کے لئے تیار ہیں لیکن اپنی مرضی سے اطاعت اختیار کرنے کو غلامی کہتے ہیں۔اگر ان لوگوں میں ڈسپلن کی عادت پیدا ہو جائے اور وہ ایک نظام کے ماتحت آ جائیں تو ان کو احمدیت میں لانا بالکل آسان ہو جائے۔پس چاہے غیر احمدی طالبعلم ہوں ہر بورڈ ر عہد کرے کہ وہ دو دو یا تین یا چار طالب علم لائے گا حتی کہ وہ تعداد پوری ہو جائے جو سکیم تجویز کرتے وقت میرے مد نظر تھی بلکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ جتنے طالب علم زیادہ ہوں اتنا ہی اچھا ہے۔اگر تین سو کی بجائے تین ہزار ہو جائیں تو بھی ہم ان کے لئے انتظام کر لیں گے۔اِنشَاءَ اللهُ تَعَالٰی۔