زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 109
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 109 جلد چهارم کوئی سامان ہر وقت میسر نہیں آسکتا لیکن اللہ تعالیٰ کی حفاظت ہر وقت میسر آتی ہے۔پس اسی کی جستجو انسان کو ہونی چاہئے۔جسے وہ مل گئی اسے سب کچھیل گیا۔جسے وہ نہ ملی اسے کچھ نہ ملا۔(3) زیادہ گفتگو دل پر زنگ لگا دیتی ہے۔رسول کریم وہ جب مجلس میں بیٹھتے ستر دفعہ استغفار پڑھتے 4 اسی وجہ سے کہ مجلس میں لغو باتیں بھی ہو جاتی ہیں اور یہ آپ کا فعل امت کی ہدایت کے لئے تھا نہ کہ اپنی ضرورت کے لئے۔جب آپ اس قدر احتیاط اس مجلس کے متعلق کرتے تھے جو اکثر ذکر الہی پر مشتمل ہوتی تھی تو اس مجلس کا کیا حال ہوگا جس میں اکثر فضول باتیں ہوتی ہوں۔یہ امور عادت سے تعلق رکھتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں ہمارے بچے جب بیٹھتے ہیں لغو اور فضول باتیں کرتے ہیں۔ہم لوگ اکثر سلسلہ کے مسائل پر گفتگو کیا کرتے تھے اس وجہ سے بغیر پڑھے ہمیں سب کچھ آتا تھا۔انسان کی مجلس ایسی ہونی چاہئے کہ اس میں شامل ہونے والا جب وہاں سے اٹھے تو اس کا علم پہلے سے زیادہ ہو نہ یہ کہ جو علم وہ لے کر آیا ہوا سے بھی کھو کر چلا جائے۔صا الله (4) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ یا اسلام کی تبلیغ کرنا دوسروں کا ہی کام نہیں ہمارا بھی کام ہے اور دوسروں سے بڑھ کر کام ہے۔پس سفر میں ، حضر میں تبلیغ سے غافل نہ ہوں۔رسول کریم فداه جسمی و روحی فرماتے ہیں تیرے ذریعہ سے ایک آدمی کو ہدایت کا ملنا اس سے بڑھ کر ہے ایک وادی کے برابر تجھ کو مال مل جائے 5 (5) بنیادی نیکیوں میں سے سچائی ہے۔جس کو سچ مل گیا اسے سب کچھ مل گیا۔جسے سچ نہ ملا اس کے ہاتھوں سے سب نیکیاں کھوئی جاتی ہیں۔انسان کی عزت اس کے واقفوں میں اس کے سچ کی عادت کے برابر ہوتی ہے۔ورنہ جو لوگ سامنے تعریف کرتے ہیں پس پشت گالیاں دیتے ہیں اور جس وقت وہ بات کر رہا ہوتا ہے لوگوں کے منہ اس کی تصدیق کرتے ہیں لیکن دل تکذیب کر رہے ہوتے ہیں۔اور اس سے زیادہ برا حال کس کا ہوگا کہ اس کا دشمن تو اس کی بات کورد کرتا ہی ہے مگر اس کا دوست بھی اس کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتا۔اس سے زیادہ قابلِ رحم حالت کس کی ہوگی۔اس کے برخلاف بچے آدمی کا یہ حال ہوتا ہے کہ اس کے دوست اس کی بات