زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 108 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 108

زریں ہدایات (برائے طلباء) 108 جلد چهارم (1) تم اب بالغ جوان مرد ہو۔میرا یہ کہنا کہ نماز میں باقاعدگی چاہیئے ایک فضول سی بات ہوگی۔جو خدا تعالیٰ کی نہیں مانتا وہ بندہ کی کب سنتا ہے۔پس اگر تم میں پہلے سے با قاعدگی ہے تو میری نصیحت صرف ایک زائد ثواب کا رنگ رکھے گی اور اگر نہیں تو وہ ایک صدا بصحرا ہے مگر پھر بھی میں کہنے سے نہیں رک سکتا کہ نماز دین کا ستون ہے۔جو ایک وقت بھی نماز کو قضا کرتا ہے دین کو کھو دیتا ہے اور نماز پڑھنے کے یہ معنے ہیں کہ باجماعت ادا کی جائے۔اچھی طرح وضو کر کے ادا کی جائے۔ٹھہر کر ، سوچ کر اور معنوں پر غور کرتے ہوئے ادا کی جائے اور اس طرح ادا کی جائے کہ توجہ کلی طور پر نماز میں ہو اور یوں معلوم ہو کہ بندہ خدا کو دیکھ رہا ہے یا کم سے کم یہ کہ خدا اسے دیکھ رہا ہے۔جہاں دو مسلمان بھی ہوں ان کا فرض ہے کہ باجماعت نماز ادا کریں بلکہ جمعہ بھی ادا کریں۔اور نماز سے قبل اور بعد ذکر کرنا نماز کا حصہ ہے جو اس کا تارک ہو وہ نماز کو اچھی طرح پکڑ نہیں سکتا اور اس کا دل نماز میں نہیں لگ سکتا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا نمازوں کے بعد تینتیس تینتیس دفعہ سُبْحَانَ اللہ اور اَلْحَمْدُ لِلہ پڑھا جائے اور چونتیس دفعہ اللهُ أَكْبَرُ یہ سود فعہ ہوا 1 اگر تم کو بعض دفعہ اپنے بڑے نماز کے بعد اٹھ کر جاتے نظر آئیں تو اس کے یہ معنی نہیں بلکہ وہ ضرورتا اٹھتے ہیں اور ذکر دل میں کرتے جاتے ہیں۔إِلَّا مَا شَاءَ اللهُ۔تہجد غیر ضروری نماز نہیں۔نہایت ضروری نماز ہے۔جب میری صحت اچھی تھی اور جس عمر کے تم اب ہو اس سے کئی سال پہلے سے خدا تعالیٰ کے فضل سے گھنٹوں تہجد ادا کرتا تھا۔تین تین چار چار گھنٹہ تک اور رسول کریم ﷺ کی اس سنت کو اکثر مد نظر رکھتا تھا کہ آپ کے پاؤں کھڑے کھڑے سوج جاتے تھے 2 رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو مسجد میں نماز کا انتظار کرتا اور ذکر الہی میں وقت گزارتا ہے وہ ایسا ہے جیسے جہاد کی تیاری کرنے والا۔(2) اللہ تعالیٰ کسی کا رشتہ دار نہیں وہ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ 3 ہے۔اس کا تعلق ہر ایک سے اس احساس کے مطابق ہوتا ہے جو اس کے بندے کو اس کے متعلق ہو۔جو اس سے سچی محبت رکھتا ہے وہ اس کے لئے اپنے نشانات دکھاتا ہے اور وہ اپنی قدرت ظاہر کرتا ہے۔دنیا کا کوئی قلعہ، کوئی فوج انسان کو ایسا محفوظ نہیں کر سکتا جس قدر کہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور اس کی امداد۔