زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 105

زریں ہدایات (برائے طلباء) 105 جلد چهارم کے بعض الفاظ پڑھ لئے۔بظاہر یہ بات سمجھ میں نہیں آ سکتی مگر Subjective mind میں یہ طاقت ہے۔اور جب محض خیال سے اس قدر عجیب اور حیرت انگیز کام دنیا میں ہوتے ہیں تو جب یہ خیال ایمان کی شکل اختیار کرے تو پھر تو کوئی چیز اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکتی۔حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اگر تم میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہوگا تو اس پہاڑ سے کہہ سکو گے کہ یہاں سے سرک کر وہاں چلا جا اور وہ چلا جائے گا اور کوئی بات تمہارے لئے ناممکن نہ ہو گی ' 2 اور جب خالی خیال اس قدر عظیم الشان تغیر پیدا کر سکتا ہے اور ایسی قوتیں بخش سکتا ہے کہ جن سے انسان ایسے کام کر لیتا ہے کہ جو دوسری صورت میں ممکن نہیں تو جب خیالات ایمان کی حالت میں آجائیں تو تم سمجھ سکتے ہو کہ ان سے کس قدر طاقت پیدا ہو سکتی ہے۔اس سے ایسی آگ پیدا ہوتی ہے کہ جو دنیا کی سب گاڑیوں کو کھینچ کر لے جائے۔پس کارکنوں میں ایسا جذبہ یقین پیدا ہونا چاہئے جو طالب علموں کے اندر بھی سرایت کر جائے۔اور جب دونوں کے اندر ایک سے جذبات ہوں گے تو ایک ایسا نتیجہ نکلے گا جو دینی اور دنیوی دونوں لحاظ سے مفید ہوگا۔ہمارے سکول کا مقصد صرف یہ نہیں ہونا چاہئے کہ طلباء پاس ہو جائیں۔انہیں کم سے کم قرآن کریم کا اس قدر ترجمہ آنا چاہئے کہ قرآنی مطالب کا سمجھنا ان کے لئے سہل اور آسان ہو جائے۔اگر یہ چیز پیدا نہیں ہو سکتی تو نتیجہ خواہ کیسا اچھا نکلے وہ مفید نہیں ہوسکتا۔ماسٹر محمد دین صاحب کے اس خیال سے میں متفق ہوں کہ یہ کامیابی دراصل ٹیم کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔اس میں شک نہیں کہ چند سالوں سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بعض ایسے اساتذہ دیئے ہیں جو نہایت محنت سے کام کرتے ہیں۔لیکن ماسٹر صاحب کے اس خیال سے میں متفق نہیں ہوں کہ انہوں نے جب سے ہائی کلاسز کو پڑھانا چھوڑا ہے نتائج اچھے نکل رہے ہیں۔وہ اگر چھوٹی جماعتوں کو پڑھاتے ہیں تو اس کے یہ معنے نہیں کہ بڑی جماعتوں کے نتائج میں ان کی کوششوں کا دخل نہیں۔بلکہ ان کا چھوٹی جماعتوں کو پڑھانا