زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 104
زریں ہدایات (برائے طلباء ) 104 جلد چهارم بات کرے گی۔یا کسی ایسی زبان کے الفاظ استعمال کرے گی جو بچپن میں سنے ہوں۔مثلاً بچپن میں وہ کبھی فرانس گیا ہو اور اُسی وقت سے فرانسیسی زبان کے بعض الفاظ اس کے دماغ میں محفوظ ہوں گے کیونکہ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ چلہ کے ایام کی بعض باتیں بھی انسانی دماغ میں محفوظ رہتی ہیں اور کبھی کوئی روح کسی ایسی زبان میں بات نہ کرے گی جس سے کبھی کوئی تعلق نہ رہا ہو۔اگر کسی عرب کی روح آئے تو وہ بھی انگریزی میں بات کرے گی اور فرانسیسی کی آئے تو وہ بھی اور افریقن کی روح بھی۔میں نے کہا کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اگلے جہان میں سب انگریزی ہی بولتے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا کہ آپ کی یہ دلیل بالکل ٹھیک ہے اور مجھے اس کا ذاتی طور پر تجربہ بھی ہے۔ایک دفعہ میرے ایک دوست مجھے ایک ایسی مجلس میں ساتھ لے گئے اور کہا کہ ایک دفعہ دیکھ لو۔چنانچہ میں گیا۔گانا وغیرہ گایا گیا اور جب وہ حالت آئی تو مجھے کہا گیا کہ تم بتاؤ کس کی روح آئے؟ میں نے کہا مجھے تو رسول کریم ﷺ کی ذات سے سب سے زیادہ انس ہے ان کی الله روح کو بلاؤ۔اس پر ایک روح آئی جو گویا ان کے نزدیک رسول کریم ﷺ کی روح تھی مگر وہ بات چیت انگریزی میں کرتی تھی۔میں نے کہا کہ آپ مجھے سورۃ فاتحہ سنائیں۔اس سوال پر میڈیم میں کچھ گھبراہٹ سی پیدا ہوئی اور اس نے کہا کہ مجھے تو یہ نہیں آتی۔میں نے کہا زندگی بھر آپ لوگوں کو سکھاتے رہے اور ہر نماز کی ہر رکعت میں اسے پڑھنے کا حکم دیا پھر اب آپ بھول گئے۔سپر چولزم کی تردید کے اور بھی دلائل ہیں مگر سب سے زبر دست یہ ہے کہ کیا وجہ ہے سب روحیں اپنی اپنی زبانیں بھول جاتی ہیں اور انہیں صرف وہی یا د رہتی ہے جو میڈیم کی ہو۔اس میں شبہ نہیں کہ اس کیفیت کے ماتحت انسان ایسی عجیب کا رروائیاں کر لیتا ہے کہ دیکھنے والا حیران رہ جاتا ہے۔دراصل Subjective mind میں اللہ تعالیٰ نے ایسی طاقتیں رکھی ہیں کہ وہ ایسے عجیب کام کر لیتا ہے جن کو Objective mind سمجھنے سے بھی قاصر رہتا ہے۔میں نے خود تجربہ کیا ہے کہ سر کے پیچھے کتاب کھول کر رکھ دی اور اس صفحہ