زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 348

زرّیں ہدایات (جلد چہارم برائے طلباء۔1932ء تا 1959ء) — Page 103

زریں ہدایات (برائے طلباء ) 103 جلد چهارم ہو جاتی ہے۔قوموں کی ترقی کا موجب ہمیشہ ان کے ارادے ہوتے ہیں۔اگر یہ خیال کر لیا جائے اور فیصلہ کر لیا جائے کہ ہم دوسروں سے کسی لحاظ سے بھی پیچھے نہیں رہیں گے تو یہ خیال ایسی طاقت اور قوت پیدا کر دیتا ہے کہ انسان واقعی دوسروں سے آگے نکل جاتا ہے۔دیکھو مسمریزم کیا ہے؟ خیالات ہی ہیں۔لیکن اس سے ایسے ایسے حیرت انگیز کام ہو جاتے ہیں کہ لوگ انہیں معجزہ سمجھتے ہیں۔یورپ میں لاکھوں ایسے انسان ہیں جو سپر چولزم کے ماتحت اپنے ان خیالات کو بھی چھوڑ رہے ہیں جنہیں وہ سائنس کے ماتحت مانتے تھے۔اور بہت سے فلاسفر اور ڈاکٹر سپر چولزم کی طرف چلے جا رہے ہیں حالانکہ صحت نظر سے اگر دیکھیں تو یہ صرف خیالات کی طاقت ہے لیکن جو لوگ حقیقت سے واقف نہیں وہ دھوکا کھا جاتے ہیں۔مشہور نو مسلم مسٹر عبد اللہ کوئیلم جو اس وقت پروفیسر لیون کے نام سے لندن میں رہتے ہیں ان کا اصل نام تو عبداللہ کو ٹیم ہی ہے مگر ان سے ایک دفعہ ملکی قانون کے ماتحت کوئی جرم سرزد ہو گیا تھا اور ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے لیکن وہ فرار ہو گئے اور بعد میں حکومت برطانیہ کی شاندار خدمات سرانجام دیں جن کی وجہ سے حکومت ان کو سزا دینا نہ چاہتی تھی اور ساتھ ہی قانون کو توڑنا بھی اسے گوارا نہ تھا اس لئے انہیں اس نام کے ساتھ وہاں رہنے کی اجازت دے دی گئی۔پولیس کو بھی اس بات کا علم ہے مگر وہ کچھ نہیں کرسکتی۔یورپ میں سب سے پہلے اسلام کو پھیلانے والے وہی ہیں۔میں جب انگلستان گیا تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ سپر چولزم کا اثر یہاں بہت پھیلتا جا رہا ہے اور بڑے بڑے لائق لوگ اس میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں مجھے بتائیں کہ اس کی اصلیت کیا ہے؟ میں نے انہیں بتایا کہ یہ دراصل انسانی خیالات کی طاقتوں کا نتیجہ ہے جس کا قطعی اور یقینی ثبوت یہ ہے کہ اس کے پیچھے حقیقت بالکل نہیں ہوتی۔اس ضمن میں میں نے انہیں چند ایک باتیں بتائیں جن میں سے ایک یہ تھی کہ روح اسی زبان میں باتیں کرتی ہے جو میڈیم 1 کی ہو۔مثلاً ایک انگریز میڈیم ہو تو جو روح آئے گی وہ ضرور انگریزی میں ہی